ماں کی ہار، وطن کی جیت،شہداء کو سلام
وطن جب جیت جاتا ہے تو مائیں ہار جاتی ہیں۔ یہ سطر محض الفاظ نہیں، یہ ایک عہد کی کہانی ہے، قربانیوں کی داستاں ہے، اور ان آنسوؤں کی تفسیر ہے جو ایک ماں کی ممتا کو بہا لے جاتے ہیں,ہم اکثر شہادت کو فتح سمجھتے ہیں، اور یقیناً ہے بھی لیکن اس فتح کا ایک پہلو ایسا بھی ہوتا ہے جسے صرف ماں محسوس کرتی ہے ,جو لعل اس نے اپنے خون سے سینچا جس کے لئے راتوں کی نیند قربان کی، وہی لعل جب وطن پر قربان ہو جاتا ہے، تو وہ ماں جیتنے والوں کی صف میں نہیں ہوتی، وہ تو ہار جاتی ہے… ہمیشہ کے لیے۔ ہر شہید کی ماں، تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہوتی ہے,وہ ماں جو اپنے بیٹے کو کفن میں لپٹا دیکھتی ہے، مگر اس کی زبان پر شکایت نہیں ہوتی، بلکہ فخر ہوتا ہے, ایسے وقت میں اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں، دعائیں ہوتی ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ اس کا بیٹا مٹی میں دفن ہو کر مٹی کو ہی سرخرو کر گیا ہے۔ وطن جب جیتتا ہے تو صرف میدان میں نہیں، دلوں میں بھی فتح حاصل کرتا ہے۔ لیکن اس جیت کی قیمت وہ ہوتی ہے جو ہم اپنے…