زمین سے ٹکرانے کے امکانات؟ وہ وجوہات جن کی بنا پر سائنسدان اِن چار سیارچوں پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں
شاید آپ سیارچوں (ایسٹرائیڈز) کے بارے میں صرف اُس وقت سوچتے ہوں گے جب آپ کوئی سائنس فکشن فلم دیکھ رہے ہوں یا جب خبروں میں بتایا جا رہا ہو کہ کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے کتنے امکانات ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کئی سائنسدان اور خلائی ادارے مسلسل اِن پر نظر رکھتے ہیں اور اس کی کئی اہم وجوہات ہیں۔ سیارچے وہ چٹانی ٹکڑے ہیں جو ہمارے سورج اور سیاروں کے بننے کے وقت، یعنی آج سے تقریباً 4.6 ارب سال پہلے، ٹوٹ کر علیحدہ ہو گئے تھے۔ آج ہمیں ایک دس لاکھ سے زائد سیارچوں کے بارے میں معلوم ہے جن میں سے زیادہ تر سورج کے گرد اور مریخ اور مشتری کے درمیان ’مین ایسٹیرائیڈ بیلٹ‘ نامی علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ لیکن کچھ سیارچے ایسے بھی ہیں جو گھومتے گھومتے بعض اوقات زمین کے کافی قریب آ جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ سیارچے ہمیں زندگی کے آغاز کے بارے میں جاننے میں مدد دے سکتے ہیں۔ آپ فلکیات کے متعلق بی بی سی اُردو کے واٹس ایپ چینل پر تازہ ترین خبریں پڑھ سکتے ہیں: یہاں کلک کیجیے برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی سے منسلک خلائی سائنس کی…