بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اغوا کے ایک ہائی پروفائل کیس میں مغوی کمسن طالب علم مصور خان کاکڑ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کوئٹہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے اغوا کاروں نے ان کو ہلاک کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس و سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم داعش نے اغوا کیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے ابتدا میں بارہ کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سرکاری حکام نے ان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مصور کاکڑ کو اغوا کاروں نے دو گولیاں ماری تھیں۔
مصور خان کاکڑ کو گزشتہ سال نومبر کے وسط میں سکول سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور ان کے اغوا کے واقعے کے خلاف تاجروں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ بچے کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ بچے کی بحفاظت بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔