369News

دوحہ میں سجے اونٹوں، سائبر ٹرکس اور جیٹ طیاروں سے ٹرمپ کا شاہانہ استقبال اور 96 ارب ڈالر کے تاریخی معاہدے کی روداد

سجے ہوئے اونٹوں کی قطاریں، گاڑیوں کے ساتھ بھاگتے ہوئے گھوڑے، جدید سائبر ٹرکس اور ان سب کے درمیان ایک گاڑی میں سوار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔۔۔ یہ یقیناً کسی مغل بادشاہ کی اپنے محل میں آمد کی تفصیلات لگ رہی ہیں، لیکن دراصل یہ امریکی صدر کا قطر کے دارالحکومت دوحہ میں استقبال کا منظر ہے۔ جیسے ہی صدر ٹرمپ کا طیارہ قطری ایئر سپیس میں داخل ہوا، تو اس کے استقبال کے لیے فضا میں قطری جیٹس موجود تھے۔ جب صدر ٹرمپ کا ایئرفورس ون طیارہ دوحہ میں لینڈ ہوا تو قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے خود ان کا استقبال کیا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پرتکلف بات چیت ہوئی جو وائٹ ہاؤس کی جانب سے شیئر کی گئی ہے۔ ٹرمپ شیخ امیر الثانی سے کہتے ہیں کہ ‘ہماری بہت خوبصورت دوستی ہے۔’ انھوں نے محل کی دیواروں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی جگہ بہت خوبصورت ہے، تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مجھے یہاں بہترین ماربل دکھائی دے رہا ہے، اسے آپ پرفیکٹو کہتے ہیں۔ آپ کا ملک بہت خوبصورت ہے اور (استقبال میں) اونٹوں کے لیے بھی شکریہ، ہم نے ایک طویل عرصے سے…

ٹرمپ کا پہلے 100 دنوں میں ’طاقت کا بے مثال مظاہرہ‘: وہ فیصلے جنھوں نے واشنگٹن میں سیاست کا دھارہ بدل دیا

گذشتہ برس اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متواتر اپنی ان ارادوں کا اظہار کیا تھا کہ وہ جیسے ہی صدر منتخب ہو کر وائٹ ہاؤس کا انتظام سنبھالیں گے وہ ملک میں ایک ڈرامائی تبدیلی لے کر آئیں گے۔ مگر بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ یہ سب کچھ اتنی برق رفتاری سے ہو گا۔ امریکہ کے 47ویں صدر کا حلف اٹھانے کے تین ماہ کے اندر اندر انھوں نے اپنے اختیارات کا ایسے استعمال کیا جو پہلے شاید کم ہی امریکی صدور نے کیا تھا۔ ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے اور صدارتی دستخط سے جاری شدہ دستاویزات اور ان کی پالیسی اعلانات سوشل میڈیا پر شہ سرخیاں بنے۔ ان کے ایگزیکٹو آرڈرز نے امریکی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامی بھی ان کے فیصلوں پر حیران و پریشان ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے صدر کے طور پر سامنے آئے ہیں جو کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کر رہے ہیں اور طویل عرصے سے منتظر اصلاحات کو نافذ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ وہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے…

مالٹا؛ غزہ کیلیے امداد لے جانے والے بحری جہاز پر اسرائیل کا ڈرون حملہ

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور رضاکاروں کو لے جانے والے ایک بحری جہاز پر مالٹا کے سمندر میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی بین الاقوامی تنظیم نے بتایا کہ بحری جہاز ’کونشس‘ میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا تاہم مالٹا کی حکومت نے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔ تنظیم نے مالٹا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور بین الاقوامی پانیوں میں ایک شہری جہاز پر حملے پر سرزنش کریں۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی تنظیم نے بحری جہاز کے غرق ہونے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر 30 بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکن سوار ہیں۔ تاہم مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ جہاز پر عملے کے 12 ارکان اور 4 عام شہری سوار تھے۔ قریبی ٹگ بوٹ نے آگ بجھانے کا عمل شروع کیا جبکہ گشت پر مامور ایک مالٹا کی کشتی کو بھی روانہ کیا گیا ہے۔ کئی گھنٹوں کی امدادی کاموں کے بعد جہاز میں موجود تمام 16 افراد کے محفوظ ہونے کی تصدیق کردی گئی۔ تاحال بحری جہاز کے اوپر طیارے گردش…

صلاح الدین ایوبی سے نتن یاہو تک: شامی دروز فرقہ جس کے ’تحفظ‘ کے لیے اسرائیل نے دمشق میں بمباری کی

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقوں خصوصاً جرمانا اور صحنايا میں جنھیں دروز آبادی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔ شامی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ جھڑپیں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہوئیں۔ وزارت کے مطابق ان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران اسرائیل نے صحنايا میں ان افراد پر فضائی حملے کیے جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ دروز برادری پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسرائیل نے ایک بار پھر شام میں دروز برادری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کی وجہ اسرائیلی اور شامی دروز کے درمیان ’قریبی تعلقات‘ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مارچ 2025 کے وسط میں شام کی درجنوں نمایاں دروز شخصیات نے مقبوضہ گولان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے دروز برادری کے روحانی پیشوا شیخ العقل موفق طریف سے ملاقات کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مذہبی دورہ تھا۔ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس اقلیت کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ شام کے دروز…

غزہ جنگ میں پہلی بار استعمال ہونے والے اسرائیلی ’بار‘ میزائل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار غزہ میں اپنے اہداف پر حملوں میں ’بار‘ میزائل کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج اس سے قبل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران اس میزائل کو استعمال کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس میزائل کو لانچ کرنے کی ویڈیو جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ ’بار‘ میزائل پیچیدہ جنگی منظرناموں کے لیے موزوں رہنمائی کا نظام استعمال کرتا ہے اور بہت کم وقت میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہدف کو درستگی سے سات منٹ کے اندر نشانہ بنانے والا میزائل اسرائیلی فوج کے مطابق بار میزائلوں میں ایک خود کار رہنمائی کا طریقہ کار ہے جو خاص طور پر پیچیدہ جنگی ماحول کے لیے ڈیزائن کیا گیا اور یہ ’بہت کم وقت‘ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی فوج ’بار میزائلوں‘ کو اپنے قدیم ’روماخ‘ میزائل کا متبادل بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو ایم 270 راکٹ لانچر سسٹم سے لانچ کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے ماضی میں دیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ میزائل امریکی ساختہ ایم ایل آر ایس راکٹ سسٹم کے مقابلے میں زیادہ موثر…

کیا چین اور امریکہ کے درمیان ’محصولات کی تجارتی جنگ‘ سے پاکستان میں سولر پینل سستے ہوں گے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ملکوں کی مصنوعات پر ٹیرف یعنی محصولات لگانے کے سلسلے میں امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے حال ہی میں چار جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں تیارکردہ سولر پینل کی درآمد پر3521 فیصد ٹیرف لگا دیا گیا ہے۔ ان ممالک میں کمبوڈیا، ویتنام، ملائیشیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اگر ان ممالک سے سولر پینل امریکہ درآمد کیے جاتے ہیں تو امریکی صارفین کے لیے ان کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔ ایسے میں ایک سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ان چار ممالک میں تیارکردہ سولر پینل کی ترسیل دوسرے ممالک میں زیادہ ہو جائے گی جہاں مانگ بھی زیادہ ہے؟ واضح رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ وہ بڑی وجہ ہے جس کے باعث پاکستان میں سولر پینل کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق ملک میں گذشتہ سال 17 گیگاواٹ کے سولر پینل درآمد کیے گئے جب کہ ڈیمانڈ آٹھ گیگاواٹ تھی۔ ان اعداد وشمار سے ایک نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان…