ظہیر الدین بابر
ظہیر الدین بابر کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف شیبانی خان کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر پھینک دیا، پورے دربار نے دیکھا، اس کا پورا جسم سرخ تھا اور اس پر بڑے بڑے آبلے بن چکے تھے اور وہ سارا دن انھیں برداشت کرتا رہا تھا۔ میری زندگی کا نچوڑ ہے دنیا کو ہمارے دکھوں اور تکلیفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا ہمیں چاہیے ہم…