369News

ظہیر الدین بابر

ظہیر الدین بابر کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف شیبانی خان کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر پھینک دیا، پورے دربار نے دیکھا، اس کا پورا جسم سرخ تھا اور اس پر بڑے بڑے آبلے بن چکے تھے اور وہ سارا دن انھیں برداشت کرتا رہا تھا۔ میری زندگی کا نچوڑ ہے دنیا کو ہمارے دکھوں اور تکلیفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا ہمیں چاہیے ہم…

حملہ

دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔پاکستان نے بھارت کے 5 رافیل طیارے گرائے ہیں یا 3 ۔اس بحث میں وقت ضائع کرنے سے حاصل تو کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ طیارے تو بہرحال گرائے ہیں اور اِس کی تصدیق طیارہ ساز کمپنی نے بھی کردی ہے۔اب اگر کسی کی یہ خواہش ہے کہ مودی بذات خود اعتراف کرے کہ اُس کے رافیل مثلِ فیلِ پورس ثابت ہوئے ہیں تو اگلے چند دنوں میں تو شاید یہ ممکن نہیں ہے۔ البتہ جب وہ گرفتار ہو کر پاکستانی حکام کے سامنے آجائے گا تو یقینا رافیل خریدنے کی غلطی بھی تسلیم کرے گا اور جنگ چھیڑنے کی غلطی بھی مانے گا۔یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت اعترافِ گناہ کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی اِس کا کوئی فائدہ ہوگا۔بہرحال پاکستانیوں کی تسلی کے لئے وہ ایسا ضرور کرے گا کہ شاید کسی بیسٹ فرینڈ کا دل پسیج ہی جائے۔بیسٹ فرینڈ کا دل پسیجتا ہے یا نہیں ،ہمیں اِس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔اِس میں شک نہیں ہے کہ خیر خواہانِ مودی وبھارت ہمارے ہاں موجود ہیں جنہیں مودی کے دشمنوں کی ہر حرکت پر اعتراض ہوتا ہے۔بہرحال پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ بھارت کا صرف ایک…

درحقیقت

صحافت : پیغمبری پیشہ تھاگزشتہ چند سالوں میں اخبارات کاحجم جس طرح سے کم ہوا ہے، اس کا اثر معاشرے پر پڑا ہے یا پھر معاشرے کا اثر صحافت پر پڑا ہے ایک طویل بحث ہے مگر چندروز قبل کے اخبارات کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ پاکستان میں اخباری صنعت زوال کا شکار ہے یا کبھی اُس پر زوال آیا تھا ۔ مگر اس زوال کا شکار ہونے والے بخوبی جانتے ہیںکہ جس تن لاگے وہ تن جانے۔یوں بھی زوال اخباری صنعت پر نہیں صرف اخبار نویسوں پر آیاجو پیٹ پالنے کے لئے بھی سچ کا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔دوسری طرف وہ تمام صحافی ہیں جو جیبیں اور تجوریاں بھرنے کے لئے دھویں کو ساون کا بادل قرار دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔صحافت کو پیغمبری پیشہ کہا جاتا ہے کہ یہ پیغام کو من وعن آگے پہنچانے کا فن ہے ۔ اِسی لئے ہر معاشرے میں صحافی کو عزت اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بہت سے نوجوان اسی عزت اور پروٹوکول کو گلیمر سمجھ کر اس شعبے میں آتے تو ہیں مگر اِس کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے اور نتیجۃً شعبہ صحافت کی…