خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
صحافت : پیغمبری پیشہ تھا
گزشتہ چند سالوں میں اخبارات کاحجم جس طرح سے کم ہوا ہے، اس کا اثر معاشرے پر پڑا ہے یا پھر معاشرے کا اثر صحافت پر پڑا ہے ایک طویل بحث ہے مگر چندروز قبل کے اخبارات کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ پاکستان میں اخباری صنعت زوال کا شکار ہے یا کبھی اُس پر زوال آیا تھا ۔ مگر اس زوال کا شکار ہونے والے بخوبی جانتے ہیںکہ جس تن لاگے وہ تن جانے۔یوں بھی زوال اخباری صنعت پر نہیں صرف اخبار نویسوں پر آیاجو پیٹ پالنے کے لئے بھی سچ کا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔دوسری طرف وہ تمام صحافی ہیں جو جیبیں اور تجوریاں بھرنے کے لئے دھویں کو ساون کا بادل قرار دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔
صحافت کو پیغمبری پیشہ کہا جاتا ہے کہ یہ پیغام کو من وعن آگے پہنچانے کا فن ہے ۔ اِسی لئے ہر معاشرے میں صحافی کو عزت اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بہت سے نوجوان اسی عزت اور پروٹوکول کو گلیمر سمجھ کر اس شعبے میں آتے تو ہیں مگر اِس کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے اور نتیجۃً شعبہ صحافت کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ شعبہ صحافت کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ مختلف اداروں نے اپنے کارندے صحافتی دفاتر میں داخل کررکھے ہیں جو اصل خبر کو لوگوں تک پہنچانے کی بجائے کچھ ایسے انداز میں پیش کرنے میں مہارت حاصل کر چکے ہوتے ہیں کہ خبر اور پراپیگنڈا میں بال برابر بھی فرق محسوس نہیں ہوپاتا۔دوران جنگ دشمن پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے پراپیگنڈاکرنے کا حکم بے شک احادیث سے ثابت ہے مگر آج کل کی صحافت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہم مسلسل حالتِ جنگ میں ہیںیاپھر دھاک عام لوگوں یا اپنے ہی قارئین پر بٹھائی جارہی ہے۔ اِس حوالے سے دیکھا جائے تو بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صحافتی ادارے کس کی مرضی اور منشا سے چل رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مین سٹریم کے صحافتی اداروں پرناصرف بڑی ذمہ داری ہوتی ہے بلکہ اُن پر بڑا پریشر بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں ایسے کئی اخبار نویس گزرے ہیں کہ جنہوں نے حق کی آواز بلند کرنے کے جرم میں اپنی آدھی زندگی جیل میں گزار دی۔تحریک پاکستان کے دوران یا قیام پاکستان کے بعد کئی ایسے اخبار نویس یااخبار کے مالکان اس “سعادت” سے فیضیاب ہو کر تاریخ میں اپنا نام اچھے لفظوں میں محفوظ کراچکے ہیں۔کئی مالکان کو تو اپنے اخبارات کی بندش کا صدمہ بھی سہنا پڑا ہے۔یقیناً یہ وہ دور تھا کہ جب کسی اخبار کی آواز بند کرنے کے لئے اُس کو سرکار کی طرف سے ملنے والے اشتہارات روک دئیے جاتے تھے۔اِس کے جواب میں اخبار کے مالک کو مجبوراً اپنی پالیسی میں ترمیم کرنا پڑتی یا پھر اخبار کواِس امید پر نقصان میںجاری رکھنا پڑتا کہ” اچھے دن آئیں گے”تاہم ایسی مثالیں کم ہیں مگر ایسے ہی اخبار نویسوں کے نام آج زندہ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ عالم جبر میں صحافت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صحافت تو ہوتی ہی عالم جبر میں ہے ۔جب سب کچھ آسان اور سیدھی سیدھی ہو تو کسی کو بھی حقیقت جاننے کی حاجت نہیں ہوتی کہ جیسے دوپہر میں دیا جلانے کی طلب کسی کو نہیں ہوتی مگر گھپ اندھیرے میںماحول کو بدلنے کےلئے معمولی سی روشنی کی کرن درکار ہوتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی میں اس شعبے کو اِس قدر مقدر کردیا گیا ہے کہ اب جھوٹ سچ سے زیادہ مقبول ہو چکا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی ہٹلر حکومت کے ترجمان یا وزیر برائے پراپیگنڈا جوزف گوئبلز کا کہنا تھا کہ جھوٹ اس قدر زیادہ اور تواتر سے بولو کہ لوگ اس کو سچ سمجھ لیں۔بڑے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہٹلر اور گوئبلز کو تاریخ کی کتابوں میں کوئی اچھے نام سے تو جانا نہیں جاتا مگر اُس کے اس فلسفے پر مسلسل عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔
معاشی دلدل میں پھنسے پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک سالہ حکومتی کارکردگی کے حوالے سے گزشتہ دنوں جب کروڑوں روپے کے اخباری اشتہارات دئیے گئے تو حکومت نواز طبقے نے تواِس کو خوب سراہا جبکہ غریب عوام سمیت ہر صحافتی تنظیم نے اِس کی خوب مخالفت کی کہ سرکاری فنڈز کو حکومت نے اپنی ذاتی تشہیر کے لئے استعمال کیا۔ وفاق اور پنجاب کی موجودہ حکمران جماعت کا تو یہ ریکارڈ ہے کہ ایک روپے کے منصوبے پر دس روپے کی تشہیر کرتی ہے۔2018ء کے انتخابات سے قبل بھی اِنہوں نے سرکاری وسائل سے اپنی اِس قدر تشہیر کی کہ پاکستان کے منصف اعظم کو یہ رولنگ دینا پڑی کہ حکمران اگر اپنی تشہیر کرنا چاہتے ہیں تو اپنی جیب سے کریں۔ منصفِ اعظم کی اِس رولنگ کو بعد میں آنے والی حکومت نے تو عزت بخشی اور سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر نہ کی جبکہ گزشتہ برس اقتدار حاصل کرنے والی حکومت نےاُس رولنگ کو فراموش کردیا۔
تاریخ اسلام کی تقریباً ہر کتاب میں حضرت عمر فاروقؓ کا یہ واقعہ درج ہے کہ وہ راتوں کو بھیس بدل کرعوام کے حالات جاننے کے لئے نکلتے تھے اور جہاں کہیں کسی کو تکلیف میں دیکھتے تو اُس کی تکلیف خود دور کرتے۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت کے گھر میں راشن نہیں تھا تو بیت المال سے راشن کی بوری اپنی کمر پر لاد کر اُس کے گھر چھوڑ کر آئے ۔حالانکہ اُن کا خادم اُنہیں مسلسل یہ کہتا رہا کہ یا امیرالمومنین یہ بوجھ مجھے اُٹھانے دیں مگر خادم کو یہ کہہ کر منع کرتے رہے کہ کیا روز قیامت بھی تم میرا بوجھ اُٹھاؤ گے؟ آج اپنے فرائض منصبی غیر احسن طریقے سے انجام دینے کے بعد حکمران جس طرح اپنی تشہیر کرتے ہیں اُس کو دیکھ کر ہر دردمند دل دکھتا ہے۔
حقیقت یہ کہ ایک حکومت کا کام ہی عوام کی بھلائی کے لئےمنصوبے بنانا اور اُن پر عمل درآمد کرانا ہے۔یہ منصوبے بھی عوام کے اداشدہ ٹیکسوں سے ہی انجام دئیے جانا ہوتے ہیں ،ایسے میں اگر تشہیر کرنی ہے تو پارٹی کے فنڈز یا ذاتی فنڈز سے کریں کسی کو اعتراض کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی گی۔یا پھر کوئی حکمران اپنے ذاتی فنڈزسے کوئی حکومتی منصوبہ مکمل کرائے تو اُس کی تشہیر سرکاری فنڈز سے کرنا بھی سمجھ میں آتا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حکمران سرکاری فنڈز سے ذاتی تعمیرات و ترقیاتی کام تو کرواتے ہیں مگر ذاتی جیب کبھی بھی ڈھیلی نہیں کرتے اور اپنی تنخواہوں اور مراعات میں ہر سال باقاعدگی سے اضافہ کرنے کے لئے خود ہی قانون سازی بھی کرلیتے ہیں۔ عوام مہنگائی مہنگائی کرتے مر جاتے ہیں،عوام حصول انصاف میں ناکام ہو کر خود سوزی کر لیتے ہیں مگر حکمرانوں کی طرف سے عوام کو تسلی کے سوا کبھی کچھ نہیں ملا۔حکمرانوں کو اپوزیشن کی خامیاں اور اپوزیشن کو حکمران جماعت کی خامیاں تونظر آجاتی ہیں اور میڈیا اُن کو عوام تک پہنچا بھی دیتا ہے مگر دونوں فریقین کو اپنی خامیاں نظر نہیں آتیں۔اگر کوئی اخبار نویس اپنا فرضِ منصبی نبھاتے ہوئے سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہتا ہے تو اُس کی آواز کو دبانے کے لئے کوئی نہ کوئی نیا قانون سامنے لے آیا جاتا ہے۔
اخباری صنعت کے زوال کی وجہ عام طور پر سوشل میڈیا کے عروج کو کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اخباری صنعت اپنے اصل فرائض سے ہٹ جانے کی وجہ سے زوال کا شکار ہوئی ہے اور اِس خلا کو پر کرنے کے لئے سوشل میڈیا خود بخود اوپر آگیا ہے۔آج ایک عام آدمی کو اِس سے غرض نہیں ہے کہ اُسے خبر پرنٹ میڈیا کے توسط سے ملی ہے یا الیکٹرانک یا ڈیجیٹل میڈیا سے ۔جبکہ پرنٹ میڈیا کو اِس سے یقنیاً فرق پڑا ہے کہ اُس کے قارئین کم ہوگئے ہیں یا اخباری ساکھ کم ہوئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں کئی چھوٹے اخبارات و جرائد تو بالکل بند ہوچکے ہیں جبکہ کئی بڑے بڑے اخبارات و جرائد چھوٹے ہوگئے ہیں۔جو اخبارات آج تک شائع ہورہے ہیں وہ یقیناً اپنی گزشتہ کئی دہائیوں میں بننے والی ساکھ کی وجہ سے چل رہے ہیں یا پھر اپنے اُس بہت زیادہ سرمائے کی فراوانی کی وجہ سے چلے جا رہے ہیں جو اُنہیں اخبار مالک ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ممتاز کررہا ہے۔
کئی سال پہلے جب اخباری کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی یونین ایک ہوتی تھی تو اُس سے کارکن صحافی متحد تھے اور اخبار مالکان اور حکومتی ادارے بھی اُس پلیٹ فارم سے اُٹھنے والی کسی بھی بات کو سنتے تھے اور اُس کا تدارک بھی ہوتا تھا مگر گزشتہ سالوں میں ہر میڈیا گروپ نے اپنی یونین آف جرنلسٹس بنا رکھی ہے جس سے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ اخباری مالکان بھی سکون میں ہیں جبکہ کارکن صحافی دونوں طرف سے پس رہے ہیں اور یہ وہی اخباری کارکن ہیں جو ایک حد تک تو دباؤ برداشت کرسکتے ہیں مگر گر جاتے ہیں سجدے میں جب وقت قیام آتا ہے۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان کے عوام غربت کی چکی میں بُری طرح پِس رہے ہیں اور اُنہیں مختلف قسم کے ٹیکسوں کے ذریعے مہنگائی کے پہاڑ تلے دبایاجاچکاہے۔ پھر حکمران آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے کر رہے ہیں کہ جس سے عوام پر بار غلامی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اوراشرافیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ٹیکس دہندگان سے حاصل کی گئی رقم، جو درحقیقت قوم کی امانت ہے،اُسے اخبارات میں ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ایسے کون سے منصوبے ہیں جو دنیا میں کوئی دوسری حکومت نہیں کررہی اور اپنی نمایا کارکردگی کا دھنڈورا پیٹنے کے لیے کروڑوں روپے کے اشتہار مین سٹریم کے اخبارات میں شائع کرائے جا رہے ہیں؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ پہلے اخبارات کو اِس لئے اشتہارات بند کردئیے جاتے تھے کہ وہ حکومت اور اداروں کی اصل صورتحال عوام پر واضح کرتے تھے۔اشتہارات کی بندش سے عوام بھی سمجھ جاتے تھے کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے اور خبر بھی شائع ہوجاتی تھی ۔جبکہ اب حکومت اور حکومتی ادارے اخبارات کو اِس لئے اشتہارات دیتے ہیں کہ اُن کے خلاف خبر شائع ہونے کےلئے اخبار میں جگہ ہی نہ بچے