369News

والدین کو فون کرکے میری موت کا پوچھا جا رہا ہے؛ علیزے شاہ

ماڈل اور اداکارہ علیزے شاہ نے کہا ہے کہ اب چیزیں برداشت سے باہر ہوچکی ہیں، سوشل میڈیا صارفین کا رویہ ناقابل برداشت ہوگیا۔ علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن آج انھوں نے ایک پوسٹ میں نہایت غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے برتاؤ پر افسوس کا اظہار کا ہے۔ علیزے شاہ نے کہا کہ میڈیا والے میرے والدین کو فون کرکے ان سے میری موت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کافی تکلیف دہ بات ہے۔ ایسی باتوں سے میں پہلے ہی ذہنی اذیت اور کوفت میں مبتلا تھی اور اب تو جسمانی تکلیف میں بھی مبتلا ہوچکی ہوں۔ علیزے شاہ نے کہا کہ جن میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تمام چیزیں ہٹا دی تھیں تب بھی اپنئی بائیو میں لکھا تھا کہ زندہ ہوں۔لیکن اس کے باوجود افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اب میڈیا میں بھی واپس نہیں آئیں گی۔ چیزیں اب برداشت سے باہر ہوگئی ہیں۔

جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے کے اعتراف پر اداکارہ کیخلاف تحقیقات شروع

بھارتی اداکارہ چھایا قدم کے خلاف جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اداکارہ چھایا قدم کی جانب سے جنگلی اور معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کا گوشت کھانے کے اعتراف کے بعد محکمہ جنگلات نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اداکارہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے مانیٹر لیزارڈ (گو) اور سیہہ (خارپشت) کا گوشت کھایا ہے، جو کہ قانونی طور پر محفوظ جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اداکارہ کے اس انکشاف کے بعد ممبئی میں جانوروں اور درختوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم “پلانٹ اینڈ اینیمل ویلفیئر سوسائٹی” نے ان کے خلاف باقاعدہ پولیس می شکایت درج کروا دی۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق چھایا قدم کو جلد تفتیش کے لیے طلب کیا جائے گا۔ محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے بتایا کہ وہ اداکارہ سے فون پر رابطے میں ہیں، اور انہوں نے مطلع کیا ہے کہ وہ اس وقت شہر سے باہر ہیں اور چند روز میں واپس آئیں گی۔ یاد رہے کہ یہ بیان اداکارہ چھایا قدم کے جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے کے بیان کے  بعد سوشل میڈیا پر بھی انہیں شدید تنقید…

ٹرمپ کا پہلے 100 دنوں میں ’طاقت کا بے مثال مظاہرہ‘: وہ فیصلے جنھوں نے واشنگٹن میں سیاست کا دھارہ بدل دیا

گذشتہ برس اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متواتر اپنی ان ارادوں کا اظہار کیا تھا کہ وہ جیسے ہی صدر منتخب ہو کر وائٹ ہاؤس کا انتظام سنبھالیں گے وہ ملک میں ایک ڈرامائی تبدیلی لے کر آئیں گے۔ مگر بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ یہ سب کچھ اتنی برق رفتاری سے ہو گا۔ امریکہ کے 47ویں صدر کا حلف اٹھانے کے تین ماہ کے اندر اندر انھوں نے اپنے اختیارات کا ایسے استعمال کیا جو پہلے شاید کم ہی امریکی صدور نے کیا تھا۔ ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے اور صدارتی دستخط سے جاری شدہ دستاویزات اور ان کی پالیسی اعلانات سوشل میڈیا پر شہ سرخیاں بنے۔ ان کے ایگزیکٹو آرڈرز نے امریکی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامی بھی ان کے فیصلوں پر حیران و پریشان ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے صدر کے طور پر سامنے آئے ہیں جو کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کر رہے ہیں اور طویل عرصے سے منتظر اصلاحات کو نافذ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ وہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے…

مالٹا؛ غزہ کیلیے امداد لے جانے والے بحری جہاز پر اسرائیل کا ڈرون حملہ

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور رضاکاروں کو لے جانے والے ایک بحری جہاز پر مالٹا کے سمندر میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی بین الاقوامی تنظیم نے بتایا کہ بحری جہاز ’کونشس‘ میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا تاہم مالٹا کی حکومت نے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔ تنظیم نے مالٹا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور بین الاقوامی پانیوں میں ایک شہری جہاز پر حملے پر سرزنش کریں۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی تنظیم نے بحری جہاز کے غرق ہونے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر 30 بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکن سوار ہیں۔ تاہم مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ جہاز پر عملے کے 12 ارکان اور 4 عام شہری سوار تھے۔ قریبی ٹگ بوٹ نے آگ بجھانے کا عمل شروع کیا جبکہ گشت پر مامور ایک مالٹا کی کشتی کو بھی روانہ کیا گیا ہے۔ کئی گھنٹوں کی امدادی کاموں کے بعد جہاز میں موجود تمام 16 افراد کے محفوظ ہونے کی تصدیق کردی گئی۔ تاحال بحری جہاز کے اوپر طیارے گردش…