369News

صلاح الدین ایوبی سے نتن یاہو تک: شامی دروز فرقہ جس کے ’تحفظ‘ کے لیے اسرائیل نے دمشق میں بمباری کی

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقوں خصوصاً جرمانا اور صحنايا میں جنھیں دروز آبادی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔ شامی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ جھڑپیں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہوئیں۔ وزارت کے مطابق ان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران اسرائیل نے صحنايا میں ان افراد پر فضائی حملے کیے جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ دروز برادری پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسرائیل نے ایک بار پھر شام میں دروز برادری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کی وجہ اسرائیلی اور شامی دروز کے درمیان ’قریبی تعلقات‘ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مارچ 2025 کے وسط میں شام کی درجنوں نمایاں دروز شخصیات نے مقبوضہ گولان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے دروز برادری کے روحانی پیشوا شیخ العقل موفق طریف سے ملاقات کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مذہبی دورہ تھا۔ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس اقلیت کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ شام کے دروز…

غزہ جنگ میں پہلی بار استعمال ہونے والے اسرائیلی ’بار‘ میزائل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار غزہ میں اپنے اہداف پر حملوں میں ’بار‘ میزائل کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج اس سے قبل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران اس میزائل کو استعمال کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس میزائل کو لانچ کرنے کی ویڈیو جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ ’بار‘ میزائل پیچیدہ جنگی منظرناموں کے لیے موزوں رہنمائی کا نظام استعمال کرتا ہے اور بہت کم وقت میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہدف کو درستگی سے سات منٹ کے اندر نشانہ بنانے والا میزائل اسرائیلی فوج کے مطابق بار میزائلوں میں ایک خود کار رہنمائی کا طریقہ کار ہے جو خاص طور پر پیچیدہ جنگی ماحول کے لیے ڈیزائن کیا گیا اور یہ ’بہت کم وقت‘ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی فوج ’بار میزائلوں‘ کو اپنے قدیم ’روماخ‘ میزائل کا متبادل بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو ایم 270 راکٹ لانچر سسٹم سے لانچ کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے ماضی میں دیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ میزائل امریکی ساختہ ایم ایل آر ایس راکٹ سسٹم کے مقابلے میں زیادہ موثر…

کیا چین اور امریکہ کے درمیان ’محصولات کی تجارتی جنگ‘ سے پاکستان میں سولر پینل سستے ہوں گے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ملکوں کی مصنوعات پر ٹیرف یعنی محصولات لگانے کے سلسلے میں امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے حال ہی میں چار جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں تیارکردہ سولر پینل کی درآمد پر3521 فیصد ٹیرف لگا دیا گیا ہے۔ ان ممالک میں کمبوڈیا، ویتنام، ملائیشیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اگر ان ممالک سے سولر پینل امریکہ درآمد کیے جاتے ہیں تو امریکی صارفین کے لیے ان کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔ ایسے میں ایک سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ان چار ممالک میں تیارکردہ سولر پینل کی ترسیل دوسرے ممالک میں زیادہ ہو جائے گی جہاں مانگ بھی زیادہ ہے؟ واضح رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ وہ بڑی وجہ ہے جس کے باعث پاکستان میں سولر پینل کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق ملک میں گذشتہ سال 17 گیگاواٹ کے سولر پینل درآمد کیے گئے جب کہ ڈیمانڈ آٹھ گیگاواٹ تھی۔ ان اعداد وشمار سے ایک نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان…