’مجھے کسی نے بتایا کہ میرے ہم زلف محمد محسن کی فیملی کو حادثہ پیش آگیا ہے اور اس کے بچے پانی میں بہہ گئے ہیں تو ایک لمحے کو میں سکتے میں آگیا کہ ان کے ساتھ تو میری بیوی اور بچے بھی تھے، میں نے پاگلوں کی طرح موبائل فون پر نمبر ڈائل کرنا شروع کردیے لیکن میرا اپنے بیوی بچوں سے رابطہ نہ ہوسکا۔‘
یہ کہنا تھا وسطی پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے رہائشی عبدالسلام کا جن کی اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ سوات اور دیگر پہاڑی مقامات کی سیر کو گئے ہوئے تھے جہاں دریائے سوات میں یہ تمام لوگ ڈوب گئے۔
سوات میں ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق اس حادثے میں مجموعی طور پر 16 افراد سیلابی ریلے میں پھنسے جن میں سے تین کو بچا لیا گیا تھا جبکہ نو کی لاشیں نکالی جا چکی ہے اور باقی کی تلاش کا کام جاری ہے۔
عبدالسلام نے بتایا کہ وہ فوری طور پر سوات کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
عبدالسلام نے بتایا کہ وہ سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور گھر کی تعمیر کے سلسلے میں چھٹیاں لے کر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سوات جانے سے پہلے بیٹیاں کہہ رہی تھیں کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں ہمیں زیادہ مزہ آئے گا، لیکن میں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اگر میں بھی چلا گیا تو گھر کی تعمیر کا کام کون کروائے گا۔‘