پاکستان میں آئندہ مالی سال 2025 سے 2026 کے لیے وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کے حوالے سے اکثر لوگوں کا یہ سوال ہے کہ آیا اس میں عام آدمی کو کوئی ریلیف دیا گیا ہے یا پھر اسے اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
ہم نے بجٹ تقریر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پانچ نکات کی نشاندہی کی ہے جنھیں پڑھ کر آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس بجٹ میں پاکستانیوں کے لیے کن مراعات اور کن اضافی ٹیکسز کی تجاویز دی گئی ہیں۔
انکم ٹیکس میں ریلیف مگر سیونگز اکاؤنٹس پر مزید ٹیکس
وفاقی وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی بعض سلیبز میں نرمی کی تجویز دی ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ:
- چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ پانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے کم کر کے صرف ایک فیصد کر دی گئی ہے۔
- بارہ لاکھ سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار پر ٹیکس کی رقم کو 30,000 سے کم کر کے 6,000 کر دینے کی تجویز ہے۔
- جو لوگ 22 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ لیتے ہیں اُن کے لیے کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
- بائیس لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ لینے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔
مگر تنخواہ دار افراد نے اپنی بچت کے لیے بینکوں میں جو سیونگز اکاؤنٹس قائم کیے ہوئے ہیں، انھیں کچھ بوجھ ضرور اٹھانا پڑے گا۔