369News

اعلیٰ سطح کے وفود اور متعدد ممالک کے دورے: پاکستان اور انڈیا عالمی سفارتی مہم سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع اور ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں نے اعلیٰ سطح کے وفود کو عالمی سفارتی مہم پر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور دونوں ہی ملکوں کی جانب سے تشکیل دیے گئے اِن وفود میں اہم سیاسی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک میں اگرچہ سیز فائر تو ہو چکا لیکن سرحد کے دونوں جانب لگ بھگ 88 گھنٹوں میں پیش آئے واقعات پر متضاد دعوؤں کے بیچ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اِن سفارتی مہمات کا مقصد کیا ہے اور دونوں ممالک ان کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

یاد رہے کہ اس نوعیت کی سفارتی مہم کا اعلان پہلے انڈیا کی جانب سے ہوا جس کے بعد پاکستان کی حکومت نے بھی اسی طرح کی سفارتی مہم کا اعلان کیا۔

پاکستانی حکومت نے سابق وزیرِ خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک وفد لندن، واشنگٹن اور برسلز بھیجنے کا عندیہ دیا ہے اور وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق یہ وفد ’عالمی سطح پر انڈیا کے پراپیگنڈے اور مذموم سازشوں کو بے نقاب کرے گا۔‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وفد میں ڈاکٹر مصدق ملک، انجینیئر خرم دستگیر، سینیٹر شیری رحمان، حنا ربانی کھر، فیصل سبزواری، تحمینہ جنجوعہ اور جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *