369News

’سردار جی 3‘ کے ٹریلر میں ہانیہ عامر کو دیکھ کر انڈیا میں شور: ’دلجیت دوسانجھ کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے‘

نڈین فلم سٹار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’سردار جی 3‘ کا گذشتہ دنوں ٹریلر جاری کیا ہوا کہ سوشل میڈیا پر انڈیا اور پاکستان کے صارفین کا ایک زور دار مباحثہ شروع ہو گیا۔ دلجیت دوسانجھ کے انسٹاگرام سے ’سردار جی 3‘ کا ٹریلر شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ فلم انڈیا کی بجائے اب 27 جون کو بیرون ملک ریلیز کی جائے گی۔ فی الحال یہ فلم انڈیا میں ریلیز نہیں ہو رہی۔ بہرحال ٹریلر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے انڈین صارفین دلجیت دوسانجھ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور فلم کی کاسٹ پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 22 جون کو جب ’سردار جی 3‘ کا ٹریلر ریلیز ہوا تو اس میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر بھی نظر آئیں۔

اسرائیل کا امریکی صدر کی جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق، ایران کے ’آخری میزائل حملے‘ میں چار اسرائیلی ہلاک

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز اس وقت قبول کی جب ’ایران پر حملوں کے اپنے مقاصد حاصل کر لیے گئے۔‘ جنگ بندی سے قبل ایران کے آخری حملے میں اسرائیل میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں

سیف الاعظم: پاکستانی فضائیہ کے وہ پائلٹ جنھوں نے چھ روزہ جنگ میں اسرائیلی طیاروں کو مار گرایا

مصر کی فضائیہ کو تباہ کرنے کے بعد پانچ جون 1967 کی گرم اور گرد آلود دوپہر، چار اسرائیلی طیارے یہ ہدف لیے اردن کے مَفرَق فضائی اڈے پر حملہ آور ہو رہے تھے کہ اس ملک کی چھوٹی سی ایئر فورس کو بھی ختم کر دیں گے۔ اس دن صرف آدھے گھنٹے میں اسرائیلی فضائیہ نے مصر کے دو سو سے زیادہ لڑاکا طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے تھے۔ لیکن اردن کے مَفرَق فضائی اڈے کو تباہ کرنے کا منصوبہ مکمل ہونے تک اسرائیلی فضائیہ دو طیارے کھو چکی تھی جن میں سے ایک کو مار گرانے والے پائلٹ کا تعلق پاکستانی فضائیہ سے تھا۔ یہ پائلٹ تھے پاکستان ایئر فورس کے فلائٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم جنھوں نے پانچ جون کو اردن کی فضائیہ کا طیارہ اڑاتے ہوئے ایک اسرائیلی لڑاکا طیارہ مار گرایا اور پھر صرف دو ہی دن بعد سات جون کو عراقی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ اڑاتے ہوئے دو اور اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ پاکستان ایئر فورس میں 1960 میں کمیشن حاصل کرنے والے سیف الاعظم، جو دو سال پہلے 1965 کی پاکستان انڈیا جنگ کے دوران انڈین فضائیہ کا بھی ایک طیارہ گرا چکے تھے، بعد میں بنگلہ دیش کی فضائیہ کا حصہ…

عطا آباد جھیل کنارے ہوٹل کا ایک حصہ سیل: غیر ملکی وی لاگر کی وائرل ویڈیو اور آلودہ پانی کا معاملہ

پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان نہ صرف پاکستانی سیاحوں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہو، یا پہاڑوں سے بہتے جھرنے، سرسبز پھلوں کے باغات ہوں یا عطا آباد جیسی جھیلوں کے نظارے جو ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز سے پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان اور عطا آباد جھیل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ ایک غیر ملکی وی لاگر کی ایک ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر نے گلگت بلتستان کی وادی ہنرہ میں عطا آباد جھیل کے کنارے قائم ایک ہوٹل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں سے مبینہ طور پر سیوریج کا پانی نکل کر عطا آباد جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوجال سعادت علی چنگیزی نے اس معاملے پر ہوٹل کے ایک حصے کو سیل کیا ہے جس میں 30 کمرے شامل ہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اس حصے سے ’عطا آباد جھیل میں آلودگی پھیلائی جا رہی تھی۔‘

ریموٹ کنٹرولڈ میزائل، پرزوں کی سمگلنگ اور ڈرون فیکٹریاں: ایران کے اندر اسرائیل کا خفیہ آپریشن جس کی تیاری مہینوں سے کی جا رہی تھی

ایران پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے شائع ہونے والی رپورٹس سے علم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا محاذ 13 جون کو فضا سے نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے ہی ایران کی زمین پر خفیہ اسرائیلی آپریشن کے ساتھ کھول دیا گیا تھا۔ اسرائیل اپنے خفیہ ادارے کی سرگرمیوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ موساد نے ہی ایران میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرنے اور ایرانی سرزمین پر کارروائیوں کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ موساد کے ایجنٹوں نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ملک میں سمگل کیے گئے ڈرونز استعمال کیے۔ ایرانی حکام پہلے بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ انھیں شبہ ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے مددگار موجود ہیں۔ 13 جون کو اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے ایرانی فوج کے اہم اعلیٰ حکام اور جوہری سائنس دانوں کی ایک بڑی تعداد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے پاس ان کے بارے میں خفیہ معلومات موجود تھیں۔ متعدد میڈیا…

نومولود افغان بچے کی اجنبی کے ساتھ پشاور پہنچنے کی کہانی: ’ماں بار بار فون کر کے پوچھتی رہی کہ اسے دودھ پلایا ہے؟‘

افغانستان میں ایک استاد عظمت اللہ کو کچھ روز قبل یہ معلوم ہوا تھا کہ ایک بچے کے دل میں سوراخ ہے مگر اس کے والدین ویزا اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے پاکستان میں علاج کی غرض سے نہیں لا پا رہے تھے۔ ایک ماہ کے اس معصوم بچے کے والدین عظمت اللہ کو جانتے نہیں تھے۔ مگر اس مجبوری کی حالت میں انھوں نے ایک اجنبی کے ہاتھ اپنے نومولود بچے کو علاج کے لیے پاکستان روانہ کر دیا۔ مدثر خان نامی یہ بچہ قریب 10 روز سے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج ہے۔ حکام کے مطابق گذشتہ روز اس کی والدہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی اور اب وہ اپنے بچے کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ عظمت بتاتے ہیں کہ ایک ماہ کے بچے کے ساتھ پاکستان آنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کے ’ماں بار بار فون کر کے پوچھ رہی تھی ’میرا بیٹا کیسا ہے؟ روتا تو نہیں؟ دودھ دیا؟ مجھے اس کی ویڈیو بھیج دو۔‘ انھوں نے اس بچے کی خاطر عید پشاور میں ہی گزاری۔ ’یہ سب کچھ انسانیت کی خاطر…

’جنرل عاصم منیر کو جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے مدعو کیا تھا، ایران کو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا‘ ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔ انھوں نے یہ بات آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی جنرل منیر سے ایران کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور ’وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ شاید دوسروں سے بہتر۔۔ اور وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔‘ امریکی صدر نے آج آرمی چیف عاصم منیر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا جہاں صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ کھانے کے بعد انھوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے (پاکستان انڈیا) جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ’میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔‘ امریکی صدر نے بتایا کہ ان کی انڈیا کے وزیراعظم مودی سے بھی کچھ ہفتے قبل ملاقات ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا…

پہلگام حملے کے بعد کشمیر سے روٹھے سیاح: ’نقصان کا حساب لگانے بیٹھیں تو ہارٹ اٹیک آ جائے گا‘

’اگر ہم نقصان کا حساب لگانے بیٹھیں، تو ہارٹ اٹیک آجائے گا اور ہمیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا۔‘ یہ بات کہتے ہی سرینگر کی رہائشی 33 سالہ سائمہ زرگر کی آنکھیں بھر آئیں۔ سائمہ نے کئی برس قبل تعلیم مکمل کرتے ہی ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں سیاحوں کا تانتا بندھ گیا تو دوسرے سینکڑوں نوجوانوں کی طرح سائمہ نے بھی ہوٹل انڈسٹری میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ سرینگر اور پہلگام میں دو تھری سٹار ہوٹلز کی مالک سائمہ کہتی ہیں کہ ’پہلگام حملے کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔‘ سرینگر کے سیاحتی مقام نشاط میں 50 کمروں والے ’بہترین ہوٹل‘ میں آج کوئی بھی سیاح مقیم نہیں ہے۔ 25 میں سے صرف دو ملازم رہ گئے ہیں کیونکہ باقیوں کو رخصت کر دیا گیا ہے۔ ’اِدھر جان کے لالے پڑے ہیں۔ اگست کے آخر تک ہوٹل کے سارے کمرے ایڈوانس میں بُک تھے لیکن اب ہمیں پیسہ واپس دینا پڑ رہا ہے۔‘ Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ایران اسرائیل تنازع: اسلام آباد کس حد تک تہران کی مدد کر سکتا ہے اور اس کے پاکستان پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

ایران اسرائیل تنازع اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حملوں کو چھ دن ہو گئے ہیں۔ جہاں ایک جانب پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی کھل کر مذمت کی ہے وہیں اس بڑھتی کشیدگی کے باعث اسلام آباد میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔ بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران، اسرائیل جنگ ’خطے اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے‘ اسی لیے اس کو روکنے کے لیے عالمی برادری فوری اقدامات کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایران، اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان نے ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے اور عالمی برداری ایران، اسرائیل جنگ بندی کے لیے فوری کردار ادا کرے۔‘ پاکستان نے اب تک اس تنازع میں سفارتی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے 13 جون کو ایک بیان میں کہا کہ ’عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، اس جارحیت کو فوری طور پر روکیں اور اسرائیل کو اس کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔‘ پاکستان نے سلامتی کونسل کی اجلاس میں بھی واضح…