369News

ایران اسرائیل تنازع: اسلام آباد کس حد تک تہران کی مدد کر سکتا ہے اور اس کے پاکستان پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

  • 3 گھنٹے قبل

ایران اسرائیل تنازع اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حملوں کو چھ دن ہو گئے ہیں۔ جہاں ایک جانب پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی کھل کر مذمت کی ہے وہیں اس بڑھتی کشیدگی کے باعث اسلام آباد میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران، اسرائیل جنگ ’خطے اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے‘ اسی لیے اس کو روکنے کے لیے عالمی برادری فوری اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایران، اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان نے ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے اور عالمی برداری ایران، اسرائیل جنگ بندی کے لیے فوری کردار ادا کرے۔‘

پاکستان نے اب تک اس تنازع میں سفارتی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے 13 جون کو ایک بیان میں کہا کہ ’عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، اس جارحیت کو فوری طور پر روکیں اور اسرائیل کو اس کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔‘

پاکستان نے سلامتی کونسل کی اجلاس میں بھی واضح الفاظ میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *