’اگر ہم نقصان کا حساب لگانے بیٹھیں، تو ہارٹ اٹیک آجائے گا اور ہمیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا۔‘ یہ بات کہتے ہی سرینگر کی رہائشی 33 سالہ سائمہ زرگر کی آنکھیں بھر آئیں۔
سائمہ نے کئی برس قبل تعلیم مکمل کرتے ہی ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں سیاحوں کا تانتا بندھ گیا تو دوسرے سینکڑوں نوجوانوں کی طرح سائمہ نے بھی ہوٹل انڈسٹری میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔
سرینگر اور پہلگام میں دو تھری سٹار ہوٹلز کی مالک سائمہ کہتی ہیں کہ ’پہلگام حملے کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔‘
سرینگر کے سیاحتی مقام نشاط میں 50 کمروں والے ’بہترین ہوٹل‘ میں آج کوئی بھی سیاح مقیم نہیں ہے۔ 25 میں سے صرف دو ملازم رہ گئے ہیں کیونکہ باقیوں کو رخصت کر دیا گیا ہے۔
’اِدھر جان کے لالے پڑے ہیں۔ اگست کے آخر تک ہوٹل کے سارے کمرے ایڈوانس میں بُک تھے لیکن اب ہمیں پیسہ واپس دینا پڑ رہا ہے۔‘
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی