پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان نہ صرف پاکستانی سیاحوں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
یہاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہو، یا پہاڑوں سے بہتے جھرنے، سرسبز پھلوں کے باغات ہوں یا عطا آباد جیسی جھیلوں کے نظارے جو ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
تاہم گذشتہ روز سے پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان اور عطا آباد جھیل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ ایک غیر ملکی وی لاگر کی ایک ویڈیو ہے۔
اس ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر نے گلگت بلتستان کی وادی ہنرہ میں عطا آباد جھیل کے کنارے قائم ایک ہوٹل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں سے مبینہ طور پر سیوریج کا پانی نکل کر عطا آباد جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر گوجال سعادت علی چنگیزی نے اس معاملے پر ہوٹل کے ایک حصے کو سیل کیا ہے جس میں 30 کمرے شامل ہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اس حصے سے ’عطا آباد جھیل میں آلودگی پھیلائی جا رہی تھی۔‘