پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے ملزم عمرحیات نے مقامی عدالت میں اعتراف جرم کرلیا ہے۔
مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم نے منگل کو مجسٹریٹ سعد نذیر کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ ثنا یوسف کا ملاقات سے مسلسل انکار قتل کی وجہ بنا۔
ثنا یوسف کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے تھا اور وہ اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ اسلام آباد میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کے قتل کا واقعہ دو جون کو پیش آیا تھا اور اس واقعے کے دو دن بعد ہی پولیس نے ملزم عمر حیات کو ضلع فیصل آباد سے حراست میں لے لیا تھا جسے بعدازاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا تھا۔
تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق ملزم عمرحیات نے عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ’(ثنا نے) پہلی مرتبہ ملاقات کے لیے بلایا، سارا دن انتظار کیا لیکن نہیں ملی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں ثنا یوسف کی سالگرہ پر تحفہ لایا جو اس نے نہیں لیا۔۔۔۔ دو جون کو ثنا یوسف نے دوبارہ ملاقات کے لیے بلایا لیکن پھر بھی نہیں ملی۔‘
ملزم نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’مجھے ثنا یوسف کے ملاقات نہ کرنے پر سخت رنج تھا اور غصے میں آ کر اس کے گھر جا کر اسے قتل کر دیا۔‘