کرکٹ کو شاید اسی لیے ناقابل یقین چیزوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ کبھی کبھی کوئی ٹیم ریکارڈ بنا کر بھی ہار جاتی ہے۔
گذشتہ روز انگلینڈ کے شہر لیڈز میں ایسا ہی کچھ ہوا جب نوجوان انڈین ٹیم دونوں اننگز میں پانچ سنچریاں بنانے کے بعد بھی انگلینڈ کی دو سنچریوں کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔
اس طرح انگلینڈ نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔
کل تک سوشل میڈیا اور انڈین میڈیا پر فخر کے ساتھ انڈیا کی جانب سے پانچ سنچریوں کے ریکارڈ کو پیش کیا جا رہا تھا اور لوگ اس نئی ٹیم کی تعریف کرتے تھک نہ رہے تھے جس میں نہ تو کوہلی تھے اور نہ ہی روہت شرما لیکن آج اسی پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کوئی ٹیم اتنے رنز اور سنچریاں بنانے کے بعد بھی کیسے ہار سکتی ہے۔بین سٹوکس کی سربراہی میں انگلینڈ ٹیم نے لیڈز کے میدان پر ٹاس جیت کر انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔