عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا جس کی وجہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی جنگ کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی تشویش ہے۔
منگل کو تجارتی سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ کے نرخ 52 سینٹ ( 0.75 فیصد ) کمی کے بعد 68.69 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 51 سینٹ ( 0.76 فیصد) کمی کے ساتھ 66.69 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔ماہرین کے مطابق امریکا اور یورپی یونین، جو دنیا کے خام تیل کے بڑے صارفین ہیں، کے درمیان ابھرتی ہوئی تجارتی جنگ کے باعث اقتصادی سرگرمیوں میں ممکنہ کمی اور ایندھن کی طلب میں سست روی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثر ڈالا ہے۔
دونوں بینچ مارک تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
دوسری جانب پاکستان وناسپتی مینوفیکچرر ایسوسی ایشن کی جانب سے گھی ملز بند کرنے کی دھمکی کے بعد ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا۔
ایسوسی ایشن کے صدر عمر ریحان شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کی گھی ملوں میں تعیناتی کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات جمعہ تک منظور نہ کئے گئے تو ملک بھر کی گھی اور تیل ملیں غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی جائیں گی۔
عمر ریحان کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال محض ایک دن کیلئے نہیں بلکہ غیر معینہ مدت کی ہوگی، اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں جمعہ کے روز سے ملک بھر میں گھی اور کوکنگ آئل کی سپلائی معطل کر دی جائے گی،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایف بی آر کی سخت گیر شرائط واپس لی جائیں اور ایک کاروبار دوست پالیسی اختیار کی جائے تاکہ صنعت کا پہیہ رواں رکھا جا سکے۔
خیال رہے کہ ایف بی آر نے سیکشن 40 بی کے تحت ملک بھر کی گھی ملوں میں اپنے اہلکار تعینات کر دیئے ہیں جس سے گھی انڈسٹری میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ایسوسی ایشن نے 37 اے، ڈیجیٹل انوائسنگ اور بینکوں میں دو لاکھ روپے تک کی لین دین کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ گھی اور کوکنگ آئل کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف مہنگائی کو بڑھاوا دے گی بلکہ سپلائی چین کو بھی متاثر کرے گی، جس کے اثرات براہ راست عوام پر مرتب ہوں گے،مہنگائی کی وجہ سے لوگ پہلے ہی پریشانی کا شکار ہیں۔