369News

ہنزہ میں گلیشیئرز پگھلنے سے شاہراہ قراقرم بند، پاک چین زمینی رابطہ منقطع ہو گیا

ہنزہ میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریائے ہنزہ میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں مورخون اور گرچہ کے مقامات پر شاہراہِ قراقرم کو شدید نقصان پہنچا، سڑک بند ہونے سے پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریائے ہنزہ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس سے علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

مورخون کے مقام پر شاہراہ قراقرم دریائی کٹاؤ کے باعث مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

شاہراہ قراقرم پر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے اور مقامی افراد کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔وادی ہنزہ کے مختلف ندی نالوں اور دریاؤں میں شدید طغیانی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے دریاؤں کے اطراف میں آباد آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔

ہنزہ میں شسپر گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور درجنوں گھروں کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا۔

شسپر گلیشیئر سے آنے والے گلیشیائی جھیل کے اخراج کے باعث (جی ایل او ایف) ہنزہ کے حسن آباد نالے میں شدید طغیانی آگئی، جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے میں درجنوں پہاڑوں کے دامن میں واقع گھروں کو خطرہ لاحق ہوگیا۔

محکمہ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیشیئرز کا پگھلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو اگلے چند دنوں میں مزید سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *