369News

بھارت نےدریائے توی میں پانی چھوڑ دیا،ہیڈ سدھنائی کو بچانے کیلئے حفاظتی بند توڑ دیا گیا

بھارت نے ستلج کے بعد دریائے توی میں بھی پانی چھوڑ دیا جس کے باعث دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔
وزارت آبی وسائل نے اطلاع ملتے ہی ایک دن میں دوسرا ہنگامی الرٹ جاری کر دیا اور 28 اداروں کو ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے پیشگی اقدامات کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کاکہناہے کہ انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا ہے اور دریائے توی میں ہائی فلڈ کا خطرہ موجود ہے، جموں میں شدید بارشیں ہو رہی ہیں،شمالی پنجاب میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا،دریائے چناب میں صرف ایک گھنٹے میں ساٹھ ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا ہے، ہیڈ مرالہ سے تریموں تک دس لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر چکا ہے، نالہ ڈیک نے سیالکوٹ، نارووال اور پسرور کو متاثر کیا جبکہ اب ان علاقوں میں مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں ہائی فلڈ کی صورتحال برقرار ہے، میلسی، بہاولپور اور بہاولنگر سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 77 ہزار کیوسک ہے،ہیڈ سدھنائی مائی صفورہ بند میں بریچنگ کر دی گئی ہے ،بارودی مواد سے بند مائی صفورا میں 2 شگاف ڈالے گئے،ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر بریچنگ سیکشن کیا گیا ۔بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب میں پانی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اورہیڈ مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 3لاکھ 71 ہزار 691 کیوسک ریکارڈ کیاگیا، وزیرآباد اور گردونواح میں رات سے بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے
پنجاب سے سیلابی ریلا آہستہ آہستہ سندھ کی جانب بڑھنے لگاہے، حکومت سندھ نے کچے کے علاقوں سے لوگوں کا انخلا شروع کردیا ہے ، صوبائی وزراء نے کچے کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقےخالی کردیں۔ 

منگلا ڈیم میں بھی 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہواہے اورڈیم 85 فیصد بھر گیاہے جہاں پانی کی سطح 1 ہزار227 فٹ سے تجاوز کرگئی ہے،خانپور ڈیم کی سطح 1ہزار981 فٹ تک جا پہنچی ہے جبکہ  راول ، سملی اور تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *