جنوبی پنجاب میں سیلاب کے باعث متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں،ہزاروں گھر اورکھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،دریائے ستلج، راوی اور چناب سے آنے والے سیلابی ریلوں نے ملتان، مظفر گڑھ، لیاقت پور اور رحیم یار خان کے اضلاع کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملتان کے قریب بستی بہاراں میں سرکاری حفاظتی پشتے ٹوٹ گئے جبکہ اوچ شریف شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالا گیا ہے۔
اس شگاف کے نتیجے میں موضع جھنبو، نورجہ بھٹہ، کوٹلہ، بہادر پور اور صابرہ سمیت مشرقی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ملتان کے قریب شیر شاہ پشتے پر اگرچہ پانی کا بہاؤ بدستور برقرار ہے تاہم شیر شاہ حفاظتی بند توڑنے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے کیونکہ جلال پور پیر والا میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ اب ٹل گیا ہے۔
ہیڈ پنجند میں پانی کی سطح ایک بار پھر بلند ہوگئی ہے، اس وقت ایک طاقتور سیلابی لہر 607,000 کیوسک لے کر اس پوائنٹ سے گزر رہی ہے۔اس سے قبل علی پور کے علاقے سے گزرنے والے سیلاب نے تحصیل کے 70 فیصد علاقے کو تباہ کر دیا تھا، سیلاب سے نمٹنے اور حفاظتی اقدامات کے لیے اگلے 24 گھنٹے انتہائی نازک قرار دئیے گئے ہیں۔
قابوہ کے نواحی علاقے فرید شاہ کا علاقہ سیلابی ریلے سے بہہ گیا ہے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، پوری بستیاں دریا نگل گئی ہےاور رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئی ہیں، جس سے علاقے تک زمینی رسائی منقطع ہو گئی ہے،متاثرہ رہائشیوں کو نکالنے کے لیے کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
لڈان کے مضافات میں اکبر شاہ کے علاقے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جہاں دو ہزار سے زائد گھر زیر آب آگئے ہیں، کھڑی فصلیں،کپاس، چاول، تل اور مکئی سیلاب کے پانی سے مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، خوراک کی قلت کے باعث خواتین اور بچے بھوک اور پیاس کا شکار ہیں۔
دریائے ستلج پر عارف والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب نے بڑی تباہی مچا دی ہے، متعدد افراد بے گھر ہو کر رہ گئےجبکہ پناہ کے لیے اپنے طور پر خیمے لگائے ہیں، بھوک سے کمزور افراد بڑھتی ہوئی مایوسی کے ساتھ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
گڈو بیراج پر پانی کی سطح پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے،دریا کے کنارے کے دیہات اب پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں،مقامی لوگ اپنے طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگلا اور تربیلا دونوں ڈیموں پر بھی پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تربیلا اور راول دونوں ڈیم ایک بار پھر مکمل صلاحیت پر پہنچ گئے ہیں، تربیلا میں پانی کی سطح 1,550.00 فٹ تک پہنچ گئی ہے جو کہ ڈیم کی مکمل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، اسی طرح راول ڈیم اب 1,751.80 فٹ پر کھڑا ہے، جو اس کی 1,752 فٹ کی حد سے محض کم ہے۔
منگلا ڈیم اس وقت 92 فیصد بھرا ہوا ہے، جس میں پانی کی سطح 1,234.60 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ اس کی مکمل گنجائش 1,242 فٹ ہے۔ خان پور ڈیم میں پانی کی سطح 1,981.45 فٹ تک پہنچ گئی ہے جو اس کی 1,982 فٹ گنجائش سے بالکل نیچے ہے، سملی ڈیم میں 2,315.25 فٹ پانی موجود ہے، جو اس کی 2315 فٹ کی مکمل ذخیرہ کرنے کی حد کے برابر ہے۔
پانی کی ان سطحوں کے نتیجے میں اب مختلف ڈیموں پر سپل وے کھولے جا رہے ہیں تاکہ اضافی پانی چھوڑا جا سکے اور ساختی دباؤ یا گرنے سے بچ سکیں۔
کھاریاں کے علاقے ڈنگہ میں محلہ شاہ تکیہ کے قریب دو بھائی 14 سالہ زینر اور 12 سالہ شاہ زین نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ زینر کو مقامی لوگوں نے بچالیا جبکہ شاہ زین کی لاش کی تلاش رات گئے تک جاری رہی۔ تلاش آج دوبارہ شروع کی جائے گی۔