369News

پاکستان میں ’امیر آدمی‘ کی گاڑی سستی اور ’عام آدمی‘ کی سواری مہنگی کیوں ہو گئی ہے؟

پاکستان میں نئے مالی سال کی ابتدا کے ساتھ لوگوں کی توقعات کے برعکس ملک میں لگژری گاڑیاں سستی جبکہ چھوٹی گاڑیاں مہنگی ہو گئی ہیں جس پر حکومتی پالیسیوں کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے اس حوالے سے سخت ردعمل دیا ہے کیونکہ درآمدی ٹیکسوں کی شرح میں رد و بدل اور کچھ نئے ٹیکسوں کی بدولت ’متوسط طبقے‘ کی گاڑی لگ بھگ دو لاکھ روپے تک مہنگی جبکہ ’امیر آدمی‘ کی گاڑی تقریباً ڈھائی کروڑ روپے تک سستی ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دو قسم کی گاڑیاں خریداری کے لیے دستیاب ہیں۔ ایک وہ جو مختلف کمپنیاں مقامی طور پر اسمبل یا تیار کرتی ہیں اور دوسری وہ جو درآمد کی جاتی ہیں۔ دونوں اقسام کی گاڑیاں ملکی درآمدات پر منحصر ہیں۔

مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیاں نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔ درآمد کی جانے والی گاڑیوں میں لگژری اور چھوٹی گاڑیاں دونوں شامل ہیں۔ تاہم جو گاڑیاں واضح طور پر سستی ہو رہی ہیں وہ لگژری گاڑیاں ہیں جن کی قیمتیں کروڑوں روپے میں ہوتی ہیں۔

پاکستان میں گاڑیوں کے کاروبار سے منسوب پاک ویلز نامی آٹو سیکٹر ویب سائٹ سے منسلک سنیل منجھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بڑی گاڑیوں کی درآمدات پر ڈیوٹی کم کرنے کی وجہ سے مثال کے طور پر جرمن اور جاپانی ساخت کی لگژری جیپوں کی قیمتوں میں ڈھائی کروڑ سے لے کر ساٹھ لاکھ روپے تک کمی دیکھنے میں آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *