369News

کراچی: مچھیروں کی خاموش بستی کو ’روشنیوں کا شہر‘ بنانے والے ہرچند رائے کون تھے؟

20ویں صدی کی ابتدا میں کراچی کی کچی سڑکیں کہاں اشارہ دیتی تھیں کہ مچھیروں کی یہ خاموش بستی یوں بدلے گی۔ مگر یہی خواب لیے، ہرچند رائے وِشنداس سنہ 1911 میں کراچی میونسپلٹی کے صدر بنے تھے اور اگلی ایک ہی دہائی میں اس شہر میں بجلی آ چکی تھی اور نکاسی آب کے جدید نظام، اور پکی سڑکوں کے ساتھ کراچی ’روشنیوں کا شہر‘ بن چکا تھا۔

یکم مئی 1862 کو سندھ کی تحصیل کوٹری کے گاؤں منجھو میں پیدا ہونے والے ہرچند رائے نے بمبئی کے ایلفنسٹن کالج سے سنہ 1882 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔

30 مئی 2011 کو روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ایک خط میں ڈاکٹر عارفہ فرید (سابق ڈین جامعہ کراچی) نے لکھا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے وکالت کا آغاز کراچی میں ’ہرچند رائے اینڈ کمپنی‘ نامی قانونی فرم سے کیا۔

وہ لکھتی ہیں کہ جناح نے 1898 میں انگلستان سے واپسی پر کراچی میں ہرچند رائے کی فرم میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کے دستخط بعض پرانے لیجرز پر بھی پائے گئے تھے، اگرچہ یہ ثبوت بعد میں ضائع ہو گئے۔ عارفہ فرید کے والد ایڈووکیٹ عبدالحمید فرید نے یہ دفتر تقسیمِ ہند کے بعد سنبھالا اور پرانے مؤکلین سے بھی یہی سُنا کہ جناح کچھ عرصے کے لیے اس دفتر سے وابستہ رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *