بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، چناب میں پانی کے تیز بہاؤ سے جلال پور پیروالا میں بند ٹوٹ گیا جس سے درجنوں بستیاں زیر آب آ گئی، لوگ جان بچانے کے لیے چھتوں پر چڑھ گئے، شجاع آباد اور جلال پور پیر والا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا جس کے بعد حکومت نے الرٹ جاری کردیا، دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہےملتان جلال پور پیر والا میں رات بھر سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ خان بیلہ کی ملحقہ آبادیوں کرم والی اور دراب پور سے 143 متاثرین کو ریسکیو کیاگیا،گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملتان سے 2ہزار343 متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔ مظفر گڑھ اور علی پور جتوئی کے عوام کو بھی سیلاب متاثرہ علاقوں سے انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔ لڈن میں سیلاب کے باعث دیہات اکبر شاہ میں بند ٹوٹنے سے ڈیڑھ ہزار گھر ڈوب گئے۔خواتین و بچے بھی بھوک و پیاس سے نڈھال ہیںدریائے چناب میں سیلاب سے ترنڈہ محمد پناہ میں تباہی مچ گئی ، بپھرا پانی تمام جمع پونجی بہا لے گیا۔دیہات علی ڈایا اور بستی گورمانی زیر آب آگئیں فصلیں بھی ملیا میٹ ہوگئیں۔ ہیڈ محمد والا اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 412 فٹ سے بڑھ کر 412.20 فٹ پر برقرار ہے ۔سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہونے سے علاقہ مکین پریشان ہیں ۔ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا۔سجاول پل پر سیلابی صورتحال برقرار ہے ،وقفے وقفے سے بارش نے متاثرین کی مشکلات مزید بڑھا دیں ۔ دریائے ستلج میں قبولہ کے مقام پر سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں جاری ہیں ،بستی سیالوں والی کے قریب حفاظتی بند ٹوٹ گیا،بپھرا پانی سوہاوا مل، ہزارا مل، بستی بھوریکا میں داخل، فصلیں تباہ ہوگئی۔ دریائےستلج میں سیلاب سے عارف والا کے 70 سے زائد دیہات متاثر ہو گئے۔بپھرے پانی نے 35 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلیں برباد کردیں، زمینی رابطے منقطع ہوگئے۔