369News

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کی لندن میں گفتگو

اگلے ایک سے دو ہفتوں میں عمران خان کی رہائی کے معاملات کلئیر ہو سکتے ہیں کیونکہ القادر کیس اور 9 مئی کے کیس رہ گئے ہیں اور اگلے ہفتے سے وہ بھی لگ رہے ہیں سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت کے فیصلے کی تائید کرتا سراہتا ہوں۔

اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو

“پہلگام واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ پلوامہ کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھی ہم نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔ میری 2019 میں کی گئی پیشن گوئی کے مطابق ایک بار پھر ویسا ہی پہلگام واقعے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ خود احتسابی یا شفاف تحقیقات کی بجائے مودی سرکار نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ ایک ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے خطے میں اشتعال انگیزی جسے پہلے ہی “جوہری فلیش پوائنٹ” کہا جاتا ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے پاس ہر وہ صلاحیت موجود ہے جس سے وہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتا ہے، جیسا کہ ایک متحد قوم کی مکمل حمایت یافتہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 میں دیا تھا۔ میں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت…

الخدمت روشنی کا وہ مینار ہے جو غزہ کے افق پر امید بکھیر رہا ہے۔

الخدمت صرف ایک فلاحی ادارہ نہیں، بلکہ ایک عالمی تحریک ہے۔ چارسدہ(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق الخدمت روشنی کا وہ مینار جو غزہ کے افق پر امید بکھیر رہا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جب نیت خالص ہو اور عزم بلند، تو فاصلے اور سرحدیں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ غزہ کے 27 مزید فلسطینی طلباء کا یونیورسٹی آف لاہور سے بیچلر آف ڈینٹل سرجری مکمل کرنا نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے، بلکہ الخدمت کے جذبۂ خدمت، خلوص اور بین الاقوامی بھائی چارے کی روشن مثال بھی ہے۔الخدمت نہ صرف تعلیم کو ایک بنیادی حق سمجھتی ہے، بلکہ اسے تعمیرِ ملت کا سب سے طاقتور ہتھیار بھی مانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2023 سے 2025 تک، سو سے زائد فلسطینی طلباء کو پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں اسکالرشپس فراہم کرنا، ت ربیتی ورکشاپس کا انعقاد، جنگ زدہ علاقوں میں عارضی اسکولوں کا قیام، اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کی فراہمی – یہ سب الخدمت کی ہمہ گیر بصیرت اور بے لوث کاوشوں کا نتیجہ ہے۔یہ کامیابیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ الخدمت صرف ایک فلاحی ادارہ نہیں، بلکہ ایک عالمی تحریک ہے جو تعلیم، صحت، اور خدمت کے…

ہندوستان اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی پریشان کن ہے۔اکرام الدین

دنیا میں کسی بھی مسلئے کا حل جنگ نہیں بلکہ پرامن مزاکرات ہی واحد حل ہے۔فوکل پرسن وزارت اوورسیز برائے اٹلی اٹلی(انٹرنیشنل ڈیسک)وزرات اوورسیز کے فوکل پرسن برائے اٹلی اکرام الدین نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے پلگام ڈرامہ رچانے کے بعد دونوں ایٹمی ممالک پاکستان اور انڈیا کے مابین ایٹمی جنگ کے بادل جنوبی ایشائی ممالک میں منڈلانے لگے انہوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین موجودہ ٹینیشن اور جنگی حالات ایسٹ و سنٹرل ایشیائی ممالک کے لئے خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وزرات اوورسیز کے فوکل پرسن برائے اٹلی اکرام الدین نے کہا کہ دونوں ایٹمی ممالک کے مابین کشیدگی پریشان کن ہے اور دونوں ممالک جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسلے کا حل نہیں اسوقت ایک اندازے کے مطابق دونوں ممالک کی ابادی تقریبا پونے دو ارب بنتی ہے اسوقت دونوں ممالک میں غربت عروج پر ہے اور کم شر خواندگی طبعی علاج معالجہ کی عدم سہولیات بے روزگاری اور خاص کر انڈیا میں ستر فیصد ابادی غربت کی لکیر سے نیچے ہونے کے باوجود مودی اور ھندوتیوا کے پیرو کاروں کی جانب سے پاکستان کے خلاف جھوٹے من گھڑت پراپگینڈا اور پلگام کے ناکام…

اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا، خواجہ سعد رفیق

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے خطے میں پرامن رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا۔ لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہماری عادت ہے ہیروز کو فراموش کردیتے ہیں اور بعد میں ان کی دل کھول کر تذلیل کرتے ہیں، ہم اکثر بات کرتے ہیں کہ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن جب ہم پالیسی میکنگ پر جائیں تو اساتذہ کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے یہاں غلطی اسٹیبلشمٹ یا سول بیورو کریسی کی ہے باقی لوگوں کو بھی نمائندگی دینا ہوگی، پاکستان کے پالیسی میکرز کو اس بارے میں سوچنا چاہیے، تعلیم کے شعبے میں ماہرین تعلیم کو اہمیت دینا ضروری ہے ان کو آگے لانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اگلی نسل اردو سے نابلد ہوگئی، گرائمر اسکولوں سے پڑھنے والوں کی نئی کلاس پیدا ہوگئی ہے، اسکولوں میں ہماری زبان اور کلچر سے متعلق کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے یہ بھی پالیسی میکرز کا قصور ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج کل…