انڈیا کے زیرِِانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہلاکت خیز حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور گذشتہ رات بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات عائد کیے۔
پاکستان نے انڈین حملوں کے جواب میں ’بنیان مرصوص‘ کے نام سے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے قبل چھ مئی (منگل) کی شب انڈیا نے آپریشن ’سندور‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں چھ مقامات پر میزائل حملے کیے۔
پاکستان اور انڈیا ماضی میں تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ آخری مرتبہ سنہ 1971 میں لڑی جانے والی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو اپنا ایک حصہ کھونا پڑا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا تھا۔ محدود پیمانے پر ایک چوتھی جنگ سنہ 1999 میں کارگل کے مقام پر بھی لڑی گئی جس میں پہلی مرتبہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کے خدشات بھی کھل کر سامنے آئے۔
دنیا میں ہتھیاروں اور عسکری طاقت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور کے مطابق 2025 میں دنیا کی سب سے طاقتور عسکری قوتوں میں امریکہ، روس اور چین کے بعد انڈیا کا نمبر آتا ہے۔
گلوبل فائر پاور کے مطابق اس کے مقابلے میں فہرست میں شامل 145 ملکوں میں پاکستان کا نمبر 12واں ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فہرست 55 مختلف عناصر کو دیکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں جغرافیائی، معاشی، مقامی صنعت، قدرتی وسائل، کارکردگی، اور ملک کے پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کے ملکوں سے تعلق کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے۔
اس مضمون میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان اور انڈیا جیسی جوہری طاقتیں کیا عسکری قوت رکھتی ہیں؟