’میرے بھائیوں کی بیویاں ان سے بے وفائی کر رہی ہیں۔‘
ازابیلا نے یہ بات اپنے والد فرانس کے بادشاہ فِلپ چہارم کو بتائی تو سنہ 1314 کی وہ سرد اور تاریک شام انھیں اور اندھیری لگنے لگی۔ مغربی یورپ کے اس ملک میں اپنے خاندان کی 400 سالہ حکمرانی کی بقا کے لیے، فلپ نے اپنی اولاد کی شادیاں یہ سوچ کر کی تھیں کہ سیاسی اتحاد بنیں اور تخت کے وارث پیدا ہوں۔
فرانس کے بادشاہ فِلپ چہارم نے اپنی بیٹی ازابیلا کا بیاہ انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دوم سے کیا تاکہ کچھ علاقوں کا تنازع حل کیا جا سکے۔ بیٹوں میں لوئی کی شادی ڈیوک آف برگنڈی کی بیٹی مارگریٹ سے اور چارلس کی شادی کاؤنٹ آف برگنڈی کی بیٹی بلانش سے، اوربلانش کی بہن جون کی فِلپ سے ہوئی۔
تاریخ دان آسکر ہیراڈن لکھتے ہیں کہ ‘لوئی اور مارگریٹ کے تعلق میں سرد مِہری تھی اور چارلس بلانش پر رعب رکھتے تھے۔ صرف جون اور فلپ کی شادی شدہ زندگی ہی خوشگوار تھی کیونکہ ازابیلا کی شادی بھی مشکلات کا شکار رہی۔’
ویئر ایلییسن اپنی کتاب ’ازابیلا: شی ولف آف فرانس، کوئین آف انگلستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘ازابیلا اکثر اپنے انگریز شوہر کے ساتھ شادی میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اپنے والد کے پاس مدد کے لیے جاتی تھیں۔’