پہلگام واقعہ نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے زخموں کو ہرا کر دیا ہے، اس ایک واقعے نے خطے کے امن کو لرزا کر رکھ دیا اور ثابت کر دیا کہ کشمیر صرف ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں بلکہ انسانیت کی بے بسی کا زندہ استعارہ ہے،جب کبھی اس وادی میں خون بہتا ہے، صرف سرحدیں گرم نہیں ہوتیں، بلکہ دل، ضمیر، اور تاریخ لرز اٹھتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان جیسے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پیدا ہونے والی یہ کشیدگی صرف بارود اور گولیوں کی زبان سمجھتی ہے اور اگر بروقت دانشمندی سے اسے سنبھالا نہ دیا جائے تو یہ شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں،ایسے میں افواجِ پاکستان نے جس جرات، وقار اور حوصلے کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کیا، وہ صرف ایک عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک نظریے کی بقا کی جنگ تھی،یہ جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ ضمیر کی عدالت میں بھی لڑی گئی،جہاں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ کشمیر اس کی رگوں میں دوڑنے والا وہ لہو ہے جسے کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
یہ جنگ ایک بار پھر دنیا کو یاد دلا گئی کہ کشمیر صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایمان، ایک عہد، اور ایک ادھورا خواب ہے،اس خواب کی شروعات 1947ء میں ہوئی، جب برصغیر تقسیم ہوا، کشمیر، ایک مسلم اکثریتی ریاست، جسے قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا، ایک سیاسی سازش کا شکار ہو گئی،ہندو مہاراجہ نے عوام کی امنگوں کو کچلتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا، یوں کشمیر، جس کی وادیوں میں اذانوں کی بازگشت گونجتی تھی، بندوقوں، ٹینکوں اور قابض فوجیوں کی چاپ سے بھر گئی، پہلی پاک بھارت جنگ نے اس تنازعہ کو دنیا کے سامنے رکھا، اور اقوام متحدہ نے استصواب رائے کی قراردادیں منظور کیں لیکن وقت گزر گیا، نسلیں بدل گئیں، قربانیاں بڑھ گئیں، مگر وہ وعدہ آج بھی وفا نہیں ہوا،مگر کشمیر خاموش نہیں ہوا، وہ چیختا ہے، وہ روتا ہے، وہ دنیا سے انصاف مانگتا ہے، ہر گرتی لاش، ہر ٹوٹتا گھر، ہر یتیم بچہ، اور ہر بیوہ عورت گواہی دیتی ہے کہ بھارت نے اس وادی کو ظلم کی تجربہ گاہ بنا رکھا ہے۔
7 لاکھ فوجی، پیلٹ گنز، اجتماعی قبریں، عصمت دری، ماورائے عدالت قتل، میڈیا بلیک آؤٹ‘یہ سب کشمیر کے روزمرہ کے الفاظ بن چکے ہیں،اس ظلم کے اندھیرے میں کشمیریوں نے ایک چراغ روشن رکھا ہے‘ پاکستان سے محبت کا چراغ، یہ وہ چراغ ہے جو بھارت کی ہر سازش، ہر گولی، اور ہر پابندی کے باوجود بجھتا نہیں،یہ محبت خون میں رچی ہوئی ہے، کشمیری اپنے جنازوں میں بھی ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں، مائیں اپنے بیٹوں کے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹتی ہیں، اور شہداء کی قبریں گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر کا دل آج بھی اسلام آباد کے ساتھ دھڑکتا ہے،یہ رشتہ محض مذہبی نہیں، بلکہ قربانیوں، اعتماد اور اس امید کا رشتہ ہے کہ ایک دن یہ ظلم ختم ہوگا، اور وادی میں آزادی کی ہوائیں چلیں گی، یہی امید پاکستان کی افواج کو ہر محاذ پر یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ صرف اپنے وطن کی نہیں بلکہ ایک مظلوم قوم کی بھی محافظ ہیں،سیاچن کی برفانی چوٹیاں ہوں یا لائن آف کنٹرول کے سلگتے مورچے، افواجِ پاکستان کے جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہے ہیں تاکہ کشمیر کی بیٹیوں کی عصمت محفوظ رہے، بچوں کا مستقبل محفوظ رہے، اور شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے۔
ماضی میں کئی کوششیں ہوئیں ،چناب فارمولا ہو یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی،ان تمام کوششوں میں کچھ نہ کچھ امید جاگی لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی بے حسی نے ان کو ناکام بنا دیا ،اب وقت ہے کہ ان تجاویز کو ازسرِ نو زندہ کیا جائے مگر اس بار کشمیریوں کو مرکزِ مشاورت بنا کر ،پاکستان کو چاہیے کہ دنیا کو یہ پیغام دے‘ ہمیں جنگ نہیں چاہیے، لیکن امن بھی وہی قابلِ قبول ہوگا جو انصاف پر مبنی ہو، وہ امن جو کشمیری ماں کے آنسو پونچھے، وہ امن جو شہیدوں کے خون کا احترام کرے اور وہ امن جو بھارت کو یہ سکھا دے کہ ظلم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا،یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں صرف بیانات نہیں،اقدامات کی ضرورت ہے،ہمیں کشمیریوں کی آواز بننا ہے،ان کے خوابوں کو تعبیر دینی ہے، اور ان سپاہیوں کے لہو کا قرض اتارنا ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کیا،کشمیر کی آزادی صرف کشمیریوں کا حق نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا فرض ہے اور یہ فرض اب صرف نعرے بازی سے ادا نہیں ہوگا، بلکہ عمل، حکمت، اور قربانی سے ادا کرنا ہوگا۔ کشمیری آج یہ پیغام دے رہے ہیں ”ہمیں یقین ہے، ایک دن آئے گا، جب لال چوک پر اذان گونجے گی، اور وہ پرچم لہرائے گا جس پر چاند ستارہ جگمگاتا ہے—اور اس کی نوید لائے گی پاک فوج۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا یہ واضح اور جرات مندانہ بیان کہ ”کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہوگا”، کشمیریوں کے دل کی آواز ہے،یہ پیغام صرف بھارت کو نہیں بلکہ دنیا کو بھی باور کرا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اس مسئلے کو طاقت سے نہیں بلکہ عدل، حق، اور عوامی رائے سے حل کرنا چاہتی ہے‘لیکن ظلم کے سامنے خاموش بھی نہیں رہیں گی،پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے حسبِ معمول الزام تراشی، میڈیا پروپیگنڈا، اور جنگی جنون کا مظاہرہ کیا، لیکن اس بار پاکستان نے جوابی کارروائی میں وہ وقار اور تدبر دکھایا جو ایک ذمہ دار ریاست کا شیوہ ہوتا ہے،آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی نے نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ کشمیریوں کے دلوں میں امید کے دیے پھر روشن کر دیے،یہی وہ لمحہ ہے جہاں قومیں فیصلہ کرتی ہیں کہ تاریخ کا دھارا کس طرف موڑنا ہے،یہ جنگ محض گولیوں اور توپوں کی نہیں، ضمیر کی جنگ ہے،پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ دکھایا کہ کشمیر اس کی شہ رگ ہے‘نظریاتی بھی، جغرافیائی بھی، اور انسانی بھی،یہی وجہ ہے کہ ہر بار جب ظلم کی سیاہ رات گہری ہوتی ہے، کشمیریوں کو ایک ہی ہستی پر بھروسہ ہوتا ہے وہ ہے پاک فوج۔
ایسے نازک موقع پر جب بھارت کی طرف سے اشتعال انگیزی کی آگ بھڑکائی گئی، پاکستان نے نہایت بردباری، حکمت اور غیر معمولی عسکری مہارت سے نہ صرف اس کا مؤثر جواب دیا بلکہ آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ایک ایسی عسکری کامیابی حاصل کی جس نے دشمن کو نہ صرف عملی میدان میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی بے نقاب کر دیا۔ اس عظیم کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں، بلکہ کشمیریوں کی امیدوں کی محافظ، اور آزادی کے سفر کی سب سے بڑی ضامن ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر کشمیری کی زبان پر ایک ہی صدا ہے۔ ”سلام ہے اس فوج کو، جو ہماری آزادی کی نوید ہے“۔ کشمیری عوام نے ایک بار پھر یہ یقین کر لیا ہے کہ جب تک پاک فوج کا وجود قائم ہے، ان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جا سکتی۔ بچے، جوان، مائیں اور بزرگ سب سمجھتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب یہی فوج ان کے زخموں کا مرہم، اور آزادی کی پہلی خوشبو لے کر سرینگر کے لال چوک میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گی۔
ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں کچھ کوششیں ہوئیں جو مسئلہ کشمیر کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کی گئیں، ان میں چناب فارمولا ایک نکتہءِ امید کے طور پر ابھرا،یہ وہ منصوبہ تھا جس میں کشمیر کو دریائے چناب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بن سکیں،پنڈت نہرو، صدر ایوب، شیخ عبداللہ، اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما اس پر سنجیدہ مکالمہ کرتے رہے، شیخ عبداللہ نے خود اپنی کتاب آتش چنار میں اس فارمولے کی تفصیلات بیان کیں۔
بعد ازاں صدر پرویز مشرف نے اسی سوچ کو نئی جہت دی، مگر داخلی سیاسی انتشار، عدلیہ سے محاذ آرائی، اور عالمی بے حسی نے اس کوشش کو ادھورا چھوڑ دیا لیکن اب وقت ہے کہ ہم پھر سے ایسی تجاویز کو زندہ کریں،وقت آ گیا ہے کہ پاکستان پوری یکجہتی کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ مقدمہ رکھے کہ کشمیر کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اگر واقعی عالمی ضمیر زندہ ہے اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی نہیں اگر انسانی حقوق کا کوئی مطلب ہے—تو اب وہ لمحہ آ چکا ہے جب کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے۔
ہمیں جنگ نہیں چاہیے، ہمیں امن چاہیے،مگر وہ امن جو انصاف پر مبنی ہو،وہ امن جو کشمیری ماں کے آنسو پونچھے، وہ امن جو کسی بیٹے کو لاپتہ نہ ہونے دے، وہ امن جو بھارت کو یہ احساس دلا دے کہ ظلم کی عمر کبھی لمبی نہیں ہوتی، پاکستان کو سفارتی محاذ پر فعال ہونا ہوگا، عالمی عدالتوں میں آواز بلند کرنی ہوگی اور اقوام متحدہ کو اب نیند سے جگانا ہوگا،یہ وقت خاموشی کا نہیں، اقدام کا ہے،ہمیں کشمیریوں کی آواز بننا ہے، ان کے خوابوں کو تعبیر دینی ہے، اور افواجِ پاکستان کے ان سپاہیوں کے لہو کا قرض اتارنا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی سرزمین کے لیے بلکہ کشمیر کے لیے بھی جانیں نچھاور کیں،یہ وہ لمحہ ہے جو تاریخ کو بدل سکتا ہے، یہ وہ موقع ہے جو دشمنی کو دوستی میں، جنگ کو امن میں، اور خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے،کشمیر کی آزادی صرف کشمیریوں کی نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت کا سوال ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ”کشمیر بنے گا پاکستان“ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے، جو وقت کے ساتھ مذید پختہ ہو رہی ہے۔