پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلے سندھ میں داخل ہوگئے، مظفر گڑھ علی پور کے علاقے سیت پور میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 افراد کو بچا لیاگیا،ایک بچے کی لاش نکال لی گئی جبکہ 5 کی تلاش جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلے سندھ میں داخل ہو گئے۔ہیڈ پنجند پر بہاؤ بڑھ کر 4لاکھ75ہزار کیوسک ہوگیا، گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہوگئی ۔
گڈو بیراج پر 4 لاکھ 43 ہزار اور سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی، پانی کا لیول کم کرنے کیلئے بیراج کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے۔مظفر گڑھ علی پور کے علاقے سیت پور میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 افراد بچا لیے گئے۔ ایک بچے کی لاش نکال لی گئی جبکہ 5 کی تلاش جاری ہے۔لودھراں میں حفاظتی بند ٹوٹنے پر حیات پور، مراد پور اور پیپل والا سمیت متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں،سیلاب میں پھنسے تین لڑکوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔
دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلع بہاولپور کے 98 مواضعات پانی میں مکمل اور جزوی طور پر ڈوبے ہیں۔ ضلع میں ڈیڑھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔
ہیڈ گنڈا سنگھ پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال رہی، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں 100 کے قریب بستیاں اور موضع جات زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں دریا برد ہوگئیں۔اوچ شریف کے نواحی علاقے موضع چک کہل ، موضع گمانی سمیت درجنوں بستیوں کے مکین سیلابی پانی میں پھنس گئے ۔ انتظامیہ سے فوری ریسکیو آپریشن کا مطالبہ ۔ جلالپور پیر والا اور گرد و نواح کے علاقے سیلابی ریلوں سے شدید متاثر ہوگئے۔ پاک فوج اور سول انتظامیہ کا مشترکہ ریسکیو آپریشن بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ہزاروں متاثرہ افراد اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کردیئے گئے۔