369News

  آسٹریلیا کا 16سال سے کم عمربچوں پر یوٹیوب کے استعمال پر پابندی کا اعلان

آسٹریلیا نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر دنیا کی پہلی جامع پابندی کے تحت یوٹیوب کو بھی شامل کر لیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق  ابتدائی طور پر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، تاہم اب حکومت نے یہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے یوٹیوب کو بھی ان پلیٹ فارمز میں شامل کر دیا ہے جن پر پابندی دسمبر سے نافذ ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں کی رپورٹ کے مطابق  اس پابندی کے تحت 16 سال سے کم عمر بچے یوٹیوب ویڈیوز تو دیکھ سکیں گے، لیکن انہیں پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی، جو ویڈیوز اپ لوڈ کرنے یا کمنٹس جیسے انٹریکشن کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

یوٹیوب، جو گوگل کی ملکیت ہے، کا مؤقف تھا کہ اسے سوشل میڈیا کے زمرے میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ نوجوانوں کے لیے “فائدہ مند اور تعلیمی مواد فراہم کرتا ہے”۔ تاہم آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر جولی انمین گرانٹ نے یوٹیوب کو پابندی میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ 10 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں ” نقصان دہ مواد” دیکھنے کے حوالے سے یہ سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا پلیٹ فارم ہے۔فیڈرل کمیونیکیشنز وزیر انیکا ویلز نے بتایا کہ اگرچہ سوشل میڈیا کا کچھ مثبت استعمال بھی ہے، لیکن “بچوں کو نشانہ بنانے والے خطرناک الگورتھمز کے لیے کوئی جگہ نہیں”۔ انہوں نے اس صورتحال کو سمندر میں بچوں کو تیرنا سکھانے جیسا قرار دیا، جہاں شارک جیسے خطرات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ”ہم سمندر کو تو قابو میں نہیں لا سکتے، لیکن شارک پر ضرور قابو پا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قانونی دباؤ میں آئے بغیر آسٹریلوی بچوں کی فلاح کے لیے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔”

پابندی کا اطلاق ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، اور اسنیپ چیٹ پر بھی ہوگا۔ آن لائن گیمنگ، میسجنگ، تعلیمی اور صحت سے متعلق ایپس کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ کم عمر صارفین کے لیے نسبتاً کم خطرناک سمجھی جاتی ہیں۔

اگر ٹیک کمپنیاں اس قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو انہیں 5 کروڑ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 32.5 ملین امریکی ڈالر) تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ کمپنیوں کو موجودہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بند کرنا ہوں گے اور نئے اکاؤنٹس کے اندراج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *