پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہوئے حالیہ تنازعے کو لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس دوران انڈین طیاروں کو پاکستانی فضائیہ کی جانب سے پہنچنے والے مبینہ نقصان کی بازگشت اب بھی کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔
اتوار کے روز انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں قائم انڈین سفارتخانے کے ’ایکس‘ ہینڈل سے اسی ضمن میں ایک وضاحت جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا میں انڈیا کے ڈیفنس اتاشی کے ایک بیان کو میڈیا میں ’سیاق و سباق سے ہٹ‘ کر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
اس وضاحت میں کہا گیا ہے کہ انڈین ڈیفنس اتاشی کی جانب سے دی گئی پریزینٹیشن میں یہ بتانا مقصود تھا کہ ’ہماری چند پڑوسی ریاستوں کے برعکس انڈیا کی مسلح افواج انڈیا کی سیاسی قیادت کے ماتحت کام کرتی ہیں۔‘
تازہ ترین خبروں کے لیے بی بی سی اُردو کے واٹس ایپ چینل پر کلک کیجیے
یاد رہے کہ اپنی اس پریزینٹیشن میں انڈین ڈیفنس اتاشی شیو کمار نے کہا تھا کہ ’جیسا کہ ٹامی ٹیمٹومو (وائس چیرمین، انڈونیشیا سینٹر فار ایئر پاور سٹڈیز) نے کہا ہے کہ انڈیا نے (اس حالیہ جنگ میں) بہت سے طیارے کھوئے۔ میں اُن سے اتفاق نہیں کرتا کہ انڈیا نے بہت سارے طیارے کھوئے، لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نے چند طیارے ضرور کھوئے۔ اور یہ صرف انڈیا کی سیاسی قیادت کی اس پابندی کی وجہ سے ہوا تھا جس میں پاکستان میں ملٹری اسٹیبلیشمنٹ اور فضائی دفاع پر حملہ نہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ لیکن نقصان کے بعد ہم نے اپنے حکمت عملی تبدیل کی اور ہم نے اُن کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔‘