دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔
پاکستان نے بھارت کے 5 رافیل طیارے گرائے ہیں یا 3 ۔اس بحث میں وقت ضائع کرنے سے حاصل تو کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ طیارے تو بہرحال گرائے ہیں اور اِس کی تصدیق طیارہ ساز کمپنی نے بھی کردی ہے۔اب اگر کسی کی یہ خواہش ہے کہ مودی بذات خود اعتراف کرے کہ اُس کے رافیل مثلِ فیلِ پورس ثابت ہوئے ہیں تو اگلے چند دنوں میں تو شاید یہ ممکن نہیں ہے۔ البتہ جب وہ گرفتار ہو کر پاکستانی حکام کے سامنے آجائے گا تو یقینا رافیل خریدنے کی غلطی بھی تسلیم کرے گا اور جنگ چھیڑنے کی غلطی بھی مانے گا۔یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت اعترافِ گناہ کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی اِس کا کوئی فائدہ ہوگا۔بہرحال پاکستانیوں کی تسلی کے لئے وہ ایسا ضرور کرے گا کہ شاید کسی بیسٹ فرینڈ کا دل پسیج ہی جائے۔
بیسٹ فرینڈ کا دل پسیجتا ہے یا نہیں ،ہمیں اِس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔اِس میں شک نہیں ہے کہ خیر خواہانِ مودی وبھارت ہمارے ہاں موجود ہیں جنہیں مودی کے دشمنوں کی ہر حرکت پر اعتراض ہوتا ہے۔بہرحال پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ بھارت کا صرف ایک دن میں جتنا نقصان ہوا ہے، اُس کے لئے غریب ہندوستانیوں نے مسلسل کئی ماہ محنت کی تھی۔ ہمارے ایک دوست صحافی نے لکھا ہے کہ بھارت کا ایک دن کا نقصان پاکستان کے ایک سال کے مجموعی ہیلتھ بجٹ سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان کے دو درجن سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں جن کا ایمان ہے کہ شہید زندہ اوراللہ کے پاس مہمان ہوتے ہیں۔
لاہور کے نواح میں مریدکے میں مرکز طیبہ پر میزائل حملے کے بعد جب وہاں کے لوگوں سے رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ مرکز انتظامیہ کو معلوم تھا کہ یہاں پر حملہ ہوگا۔اسی لئے احتیاطاًیہاں پر عوام کا داخلہ بند کردیا گیا تھا ۔مرکز کے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ اپنے علاج کے لئے یہیں آیا کرتے تھے۔حملہ ہونے سے کئی دن پہلے ہی ہسپتال بھی باقاعدہ بند کردیا گیا تھا اورعلاج کے لئے آنے والے مریض خلاف معمول اپنی بیماری کے ساتھ ہی اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ حملہ والی رات علاقے میں پہلی مرتبہ بلیک آؤٹ کیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کو بھارت کی متوقع جارحیت کا علم تھا ۔سوشل میڈیا پر آپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ بھارتی حملے سے خوفزدہ ہرگز نہیں ہوئے بلکہ وہ تمام خطرات کو بالائے طاق رکھ کر جائے وقوعہ پر پہنچ رہے تھے۔پر جوش لوگوں کی یہ حرکت بلا شبہ سیفٹی تقاضوں کے برعکس تھی ۔اُن کا یہ عمل اِس لئے ہی تھا کہ اگر کہیں اُن کی مدد کسی کو درکار ہو تو وہ بروقت وہاں موجود ہوں۔
پاکستانی قوم زندہ دل اور زندہ ضمیر قوم ہے کہ مصیبت کے وقت اپنی تمام کدورتیں پس پشت ڈال کر مصیبت زدہ کی مدد کےلئے آگے بڑھتی ہے۔ جنگ کے دوسرے روز جب بھارت نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ڈرون حملے کئے تو افواج پاکستان نے ایک مرتبہ پھر بھارت کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔حملہ آور ڈرون کے ریڈار پرآتے ہی خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے ۔اصولا تو لوگوں کو اپنے گھروں میں یا کسی اور محفوظ جگہ پرچلے جانا چاہئے تھا مگر وہ تو تباہ شدہ ڈرون کا ملبہ دیکھنے کے لئے گھروں سےایسے نکلنا شروع ہوگئے کہ جیسے سائرن میلہ دیکھنے کی دعوت کے لئے بجایا گیا ہو۔
دوسری طرف بھارت نے کم و بیش 5000 SWARMڈرونز پورے پاکستان میں بھیجے،جن میں سے کچھ تو ٹارگٹ لئے ہوئے تھے اور کچھ کسی ٹارگٹ کے بغیر ہی پاکستان کی طرف عازم سفر ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کو تو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا جبکہ کچھ نے زمین پر گر نے کے بعد اپنا اثر دکھایا۔معلوم ہوا کہ بعض ڈرونز تو زمین پر گر نے کے باوجود بھی نہیں چلے،ایسے ڈرونز بہت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں خصوصاً زندہ دل قوم کے لئے کیونکہ یہ زندہ دل قوم زمین پر پڑی ہر چیز کو ہی مال غنیمت خیال کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آٹھ دس سال کا بچہ چلے ہوئے ڈرون کا ایک پرزہ جو اُس کی دانست میں کسی کھلونے کی ماند ہے اُٹھا ئے لئے جارہا ہے۔SWARM ڈرون دراصل ایسے سینسرز کا حامل ہوتا ہے کہ جو کسی چیز کے ساتھ مس ہونے کے بعد پھٹتا ہے ،عموماًزمین پر گرکر ورنہ زمین پر گرنے کے بعد کسی انسان کے چھولینے سے پھٹ جاتا ہے۔گرے ہوئے ڈرون کو اِس طرح چھونے سے کم از کم چھونے والا تو اگلے جہاں چلا ہی جاتا ہے اور بعض اوقات اپنے ساتھ اور بھی بہت سوں کو لے جاتا ہے ۔اِس لئے اگر کہیں ایسے کسی ڈرون سے واسطہ پڑ جائے تو بذات خود اُس کا معائینہ کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں بلکہ 1122 پر فوری طور پر اطلاع دی جائے وہ خود ہی آ کر اس کا بندوبست کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارت کے یہ SWARMڈرونزساختہ اسرائیل ہیں اور بھارت انہیں پاکستان پر استعمال بھی عین اُسی طرح کررہا ہے جس طرح اسرائیل نے اس کو غزہ میں استعمال کیا ہے۔یہ ڈرونز کسی فوجی تنصیب پر نہیں گرائے جاتے بلکہ کوئی ٹارگٹ نہ ہونے کی وجہ سے کہیں بھی گر جاتے ہیں۔یقیناًیہ ڈرون استعمال کرکے بھارتی وزیراعظم مودی اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی طرح سنگین جنگی جرم کا مرتکب ہوا ہے۔
جنگ شرع ہونے سے پہلے اکثر دانشور ہنود یہود گٹھ جوڑکی بات کیا کرتے تھے ،اُس وقت اُن کےپاس اپنے اس دعوے کے حوالے سے دلائل تو بے شمار ہوتے تھے مگر ثبوت نہیں تھا،لیں اب اُنہیںثبوت بھی مل گیا ہے۔ہم ایک عرصہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ محض اِس لئے ہی چھیڑی ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مصروف رہے اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لئے کچھ کرنے کا سوچ بھی نہ سکے اوراِس دوران میں اسرائیل اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوجائے۔دوسری طرف ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ نہ تو اسرائیل اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہوگا اور نہ ہی بھارت کیونکہ غزہ میں اتنا زیادہ نقصان اُٹھانے کے بعد اہل غزہ تھکے نہیں ہیں اور پاکستانی قوم تو ہے ہی زندہ دل جو ہر وقت اپنی افواج کے پیچھے کھڑی ملتی ہے اور اُسے یہ بھی احساس ہے کہ بقول علامہ محمد اقبال
“لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا “
اِن سطور کی اشاعت تک ممکن ہے کہ قوم گزشتہ دنوں میں ہونے والے اپنے نقصانات کودشمن کو پہنچنے والے نقصانات کے مقابلے میں معمولی خیال کرکے بھول بھی چکی ہو۔بہرحال اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں۔
حملہ