369News

نومولود افغان بچے کی اجنبی کے ساتھ پشاور پہنچنے کی کہانی: ’ماں بار بار فون کر کے پوچھتی رہی کہ اسے دودھ پلایا ہے؟‘

افغانستان میں ایک استاد عظمت اللہ کو کچھ روز قبل یہ معلوم ہوا تھا کہ ایک بچے کے دل میں سوراخ ہے مگر اس کے والدین ویزا اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے پاکستان میں علاج کی غرض سے نہیں لا پا رہے تھے۔

ایک ماہ کے اس معصوم بچے کے والدین عظمت اللہ کو جانتے نہیں تھے۔ مگر اس مجبوری کی حالت میں انھوں نے ایک اجنبی کے ہاتھ اپنے نومولود بچے کو علاج کے لیے پاکستان روانہ کر دیا۔

مدثر خان نامی یہ بچہ قریب 10 روز سے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج ہے۔ حکام کے مطابق گذشتہ روز اس کی والدہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی اور اب وہ اپنے بچے کے پاس پہنچ چکی ہیں۔

عظمت بتاتے ہیں کہ ایک ماہ کے بچے کے ساتھ پاکستان آنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کے ’ماں بار بار فون کر کے پوچھ رہی تھی ’میرا بیٹا کیسا ہے؟ روتا تو نہیں؟ دودھ دیا؟ مجھے اس کی ویڈیو بھیج دو۔‘

انھوں نے اس بچے کی خاطر عید پشاور میں ہی گزاری۔ ’یہ سب کچھ انسانیت کی خاطر کیا ہے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور اللہ ہماری محنت کا اجر دے تاکہ یہ بچہ صحتیاب ہو سکے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *